तिरा क्या काम अब दिल में ग़म-ए-जानाना आता है निकल ऐ सब्र इस घर से कि साहिब-ख़ाना आता है नज़र में तेरी आँखें सर में सौदा तेरी ज़ुल्फ़ों का कई परियों के साए में तिरा दीवाना आता है वफ़ूर-ए-रहमत-ए-बारी है मय-ख़्वारों पे इन रोज़ों जिधर से अब्र उठता है सू-ए-मय-ख़ाना आता है लगी दिल की बुझाए बेकसी में कौन है ऐसा मगर इक गिर्या-ए-हसरत कि बे-ताबाना आता है उन्हीं से ग़म्ज़े करती है जो तुझ पर जान देते हैं अजल तुझ को भी कितना नाज़-ए-मअशूक़ाना आता है परेशानी में ये आलम तिरी ज़ुल्फ़ों का देखा है कि इक इक बाल पर क़ुर्बान होने शाना आता है छलक जाता है जाम-ए-उम्र अपना वाए-नाकामी हमारे मुँह तलक साक़ी अगर पैमाना आता है वो बुत ही मेहरबाँ सब अपना अपना हाल कहते हैं लब-ए-ख़ामोश तुझ को भी कोई अफ़्साना आता है तिलिस्म-ए-ताज़ा तेरा साया-ए-दीवार रखता है बदलता है परी का भेस जो दीवाना आता है ये अज़्मत रह के ज़ाहिद इन बुतों में हम ने पाई है कि का'बा हम को लेने ता-दर-ए-मय-ख़ाना आता है दो-रंगी से नहीं ख़ाली अदम भी सूरत-ए-हस्ती कोई होश्यार आता है कोई दीवाना आता है हुमा यूँँ उस्तुख़्वान-ए-सोख़्ता पर मेरे गिरता है तड़प कर शम्अ' पर जैसे कोई परवाना आता है उधर हैं हुस्न की घातें इधर हैं इश्क़ की बातें तुझे अफ़्सूँ तो मुझ को उसे परी अफ़्साना आता है कलेजा हाथ से अहल-ए-तमअ के चाक होता है सदफ़-आसा अगर मुझ को मुयस्सर दाना आता है नमक जल्लाद छिड़का चाहता है मेरे ज़ख़्मों पर मज़े का वक़्त अब ऐ हिम्मत-ए-मर्दाना आता है ज़बरदस्ती का धड़का वस्ल में तुम को समाया है किधर हो होश में आओ कोई आया न आता है इलाही किस की शम्-ए-हुस्न से रौशन है घर मेरा कि बन जाता है जुगनू आज जो परवाना आता है वो आशिक़ ख़ाल-ओ-ख़त का हूँ नज़्र-ए-मोर करता हूँ मुयस्सर तीसरे दिन भी जो मुझ को दाना आता है 'अमीर' और आने वाला कौन है गोर-ए-ग़रीबाँ पर जो रौशन शम्अ' होती है तो हाँ परवाना आता है
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
More from Ameer Minai
چپ بھی ہوں بک رہا ہے کیا واعظ مغز رندوں کا کھا گیا تو واعظ تری کہنے سے رند جائیں گے یہ تو ہے خا لگ خدا واعظ اللہ اللہ یہ کبر اور یہ غرور کیا خدا کا ہے دوسرا واعظ بے اعتباری مے کشوں پہ چشم غضب حشر ہونے دے دیکھنا واعظ ہم ہیں قحط شراب سے بیمار ک سے مرض کی ہے تو دوا واعظ رہ چکا مختلف ہے وہ ہے وہ ساری عمر کبھی مے خانے ہے وہ ہے وہ بھی آ واعظ ہجو مے کر رہا تھا منبر پر ہم جو پہنچے تو پی گیا تو واعظ دختر رز کو برا مری آگے پھروں لگ کہنا کبھی سنا واعظ آج کرتا ہوں وصف مے ہے وہ ہے وہ امیر دیکھوں کہتا ہے ا سے ہے وہ ہے وہ کیا واعظ
Ameer Minai
0 likes
تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر ک سے کا ہے سینا ک سے کا ہے مری جان ج گر ک سے کا ہے خوف میزان قیامت نہیں مجھ کو اے دوست تو ا گر ہے مری پلے ہے وہ ہے وہ تو ڈر ک سے کا ہے کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے سخت دونوں ہے وہ ہے وہ خدا جانے سفر ک سے کا ہے چھپ رہا ہے قفص تن ہے وہ ہے وہ جو ہر طائر دل آنکھ کھولے ہوئے شاہین نظر ک سے کا ہے نام شاعر لگ صحیح شعر کا مضمون ہوں خوب پھل سے زار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کام شجر ک سے کا ہے دام نا رسائی کرنے سے جو ہے طائر دل کے منکر اے کماں دار تری تیر ہے وہ ہے وہ پر ک سے کا ہے مری حیرت کا شب وصل یہ باعث ہے امیر سر ب زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر ک سے کا ہے
Ameer Minai
0 likes
ہے وہ ہے وہ رو کے آہ کروں گا ج ہاں رہے لگ رہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہے لگ رہے آ سماں رہے لگ رہے رہے حقیقت جان ج ہاں یہ ج ہاں رہے لگ رہے جلوے کی خیر ہوں یا رب مکان رہے لگ رہے ابھی مزار پر احباب فاتحہ پڑھ لیں پھروں ا سے دودمان بھی ہمارا نشان رہے لگ رہے خدا کے واسطے کلمہ بتوں کا پڑھ زاہد پھروں اختیار ہے وہ ہے وہ غافل زبان رہے لگ رہے اڑائے تو خیر سے گزری چمن ہے وہ ہے وہ بلبل کی بہار آئی ہے اب آشیاں رہے لگ رہے چلا تو ہوں پئے اظہار غزلوں حضور یار دیکھوں مجال بیاں التفات دل دوستان رہے لگ رہے امیر جمع ہیں احباب غزلوں کہ لے پھروں افشاں رہے لگ رہے
Ameer Minai
1 likes
جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے
Ameer Minai
1 likes
جب سے بلبل تو نے دو تنکے لیے ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لیے ہے جوانی خود جوانی کا سنگار سادگی گہنا ہے ا سے سن کے لیے کون ویرانے ہے وہ ہے وہ دیکھےگا بہار پھول جنگل ہے وہ ہے وہ کھلے کن کے لیے ساری دنیا کے ہیں حقیقت مری سوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے باغباں مصروف ہوں ہلکے رنگ کی بھیجنی ہے ایک کم سن کے لیے سب حسین ہیں غم ہستی کو نا پسند اب کوئی حور آوےگی عشق دل ان کے لیے وصل کا دن اور اتنا بڑھوا دن گنے جاتے تھے ا سے دن کے لیے صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر بھیجتے تحفہ موذن کے لیے
Ameer Minai
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameer Minai.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameer Minai's ghazal.







