تری بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے مثال رنگ حقیقت جھونکا نظر بھی آتا ہے تمام شب جہاں جلتا ہے اک اداس دیا ہوا کی راہ ہے وہ ہے وہ اک ایسا گھر بھی آتا ہے حقیقت مجھ کو ٹوٹ کے چاہےگا چھوڑ جائےگا مجھے خبر تھی اسے یہ ہنر بھی آتا ہے اجاڑ بن ہے وہ ہے وہ اترتا ہے ایک جگنو بھی ہوا کے ساتھ کوئی ہم سفر بھی آتا ہے وفا کی کون سی منزل پہ اس کا نے چھوڑا تھا کہ حقیقت تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے جہاں لہو کے سمندر کی حد ٹھہرتی ہے وہیں جزیرہ کہکشاں و گوہر بھی آتا ہے چلے جو ذکر فرشتوں کی پارسائی کا تو کاٹو مقام بشر بھی آتا ہے ابھی سناں کو سنبھالے رہیں عدو میرے کہ ان صفوں ہے وہ ہے وہ کہیں میرا سر بھی آتا ہے کبھی کبھی مجھے ملنے بلندیوں سے کوئی شعاع صبح کی صورت اتر بھی آتا ہے اسی لیے ہے وہ ہے وہ کسی شب نہ سو سکا محسن حقیقت ماہتاب کبھی بام پر بھی آتا ہے
Related Ghazal
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
مری تقدیر ہے وہ ہے وہ جلنا ہے تو جل جاؤں گا تیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گا سوز بھر دو مری سپنے ہے وہ ہے وہ غم الفت کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی موم نہیں ہوں جو پگھل جاؤں گا درد کہتا ہے یہ نزدیک تر کے شب فرقت ہے وہ ہے وہ ہے وہ آہ بن کر تری پہلو سے نکل جاؤں گا مجھ کو سمجھاؤ لگ ساحر ہے وہ ہے وہ اک دن خود ہی ٹھوکریں کھا کے محبت ہے وہ ہے وہ سنبھل جاؤں گا
Sahir Ludhianvi
25 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
یہ حقیقت قبیلہ ہے جو حسن کو خدا مانے ی ہاں پہ کون تیری بات کا برا مانے اشارہ کر دیا ہے آپ کی طرف ہے وہ ہے وہ نے یہ بچے پوچھ رہے تھے کہ بےوفا مانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے بدن کی بناوٹ کو ایسے دیکھتا ہوں کہ چنو دیکھ لی ہوں زاہدوں سداما نے
Kushal Dauneria
30 likes
More from Mohsin Naqvi
जब से उस ने शहर को छोड़ा हर रस्ता सुनसान हुआ अपना क्या है सारे शहर का इक जैसा नुक़सान हुआ ये दिल ये आसेब की नगरी मस्कन सोचूँ वहमों का सोच रहा हूँ इस नगरी में तू कब से मेहमान हुआ सहरा की मुँह-ज़ोर हवाएँ औरों से मंसूब हुईं मुफ़्त में हम आवारा ठहरे मुफ़्त में घर वीरान हुआ मेरे हाल पे हैरत कैसी दर्द के तन्हा मौसम में पत्थर भी रो पड़ते हैं इंसान तो फिर इंसान हुआ इतनी देर में उजड़े दिल पर कितने महशर बीत गए जितनी देर में तुझ को पा कर खोने का इम्कान हुआ कल तक जिस के गिर्द था रक़्साँ इक अम्बोह सितारों का आज उसी को तन्हा पा कर मैं तो बहुत हैरान हुआ उस के ज़ख़्म छुपा कर रखिए ख़ुद उस शख़्स की नज़रों से उस से कैसा शिकवा कीजे वो तो अभी नादान हुआ जिन अश्कों की फीकी लौ को हम बे-कार समझते थे उन अश्कों से कितना रौशन इक तारीक मकान हुआ यूँँ भी कम-आमेज़ था 'मोहसिन' वो इस शहर के लोगों में लेकिन मेरे सामने आ कर और भी कुछ अंजान हुआ
Mohsin Naqvi
0 likes
اب حقیقت طوفاں ہے لگ حقیقت شور ہواؤں جیسا دل کا عالم ہے تری بعد خلاوں جیسا کاش دنیا مری احسا سے کو واپ سے کر دے خموشی کا وہی انداز صداؤں جیسا پا سے رہ کر بھی ہمیشہ حقیقت بے حد دور ملا ا سے کا انداز ت غافل تھا خداؤں جیسا کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احسا سے مآل پھول کھیل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا کیا خوشگوار ہے کہ دنیا اسے سردار کہے ج سے کا انداز سخن بھی ہوں گداؤں جیسا پھروں تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر پھروں مری دل ہے وہ ہے وہ اٹھا شور ہواؤں جیسا بارہا خواب ہے وہ ہے وہ پا کر مجھے پیاسا محسن ا سے کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
Mohsin Naqvi
1 likes
خمار موسم خوشبو حد چمن ہے وہ ہے وہ کھلا مری غزل کا خزا لگ تری بدن ہے وہ ہے وہ کھلا جاناں ا سے کا حسن کبھی ا سے کی بزم ہے وہ ہے وہ دیکھو کہ ماہتاب صدا شب کے پیرہن ہے وہ ہے وہ کھلا غضب نشہ تھا م گر ا سے کی بخشش لب ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا لگ حقیقت سخن ہے وہ ہے وہ کھلا لگ پوچھ پہلی ملاقات ہے وہ ہے وہ مزاج ا سے کا حقیقت رنگ رنگ ہے وہ ہے وہ سمٹا کرن کرن ہے وہ ہے وہ کھلا بدن کی چاپ نگہ کی زبان بھی ہوتی ہے یہ بھیڈ ہم پہ م گر ا سے کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ کھلا کہ چنو ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائے سفر کی شام میرا مہرباں تھکن ہے وہ ہے وہ کھلا ک ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے سے نشانی تھی ک سے مسیحا کی حقیقت ایک زخم کہ محسن مری کفن ہے وہ ہے وہ کھلا
Mohsin Naqvi
2 likes
ہوا ہجر ہے وہ ہے وہ جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا کہ پیرہن تو گیا تو تھا بدن بھی چاک ہوا اب ا سے سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں بدن سے روح کا ا سے درجہ اشتراک ہوا یہی کہ سب کی عزائم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ ٹوٹی ہیں چلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا حقیقت بے سبب یوںہی روٹھا ہے گل آرزو کے لیے یہ سانحہ لگ صحیح پھروں بھی کرب ناک ہوا اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخر حقیقت ج سے کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا شدید وار لگ دشمن دلیر تھا محسن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی بے خبری سے م گر انداز وصل ہوا
Mohsin Naqvi
0 likes
یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا تو آوارگی ا سے دشت ہے وہ ہے وہ اک شہر تھا حقیقت کیا ہوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا تو کون ہے ا سے نے کہا آوارگی لوگوں بھلا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ کیسے جییں گے ہم ج ہاں ہوں جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مری غم کا سبب صحرا کی بھیگی ریت پر ہے وہ ہے وہ نے لکھا آوارگی ا سے سمت وحشی خواہشوں کی زد ہے وہ ہے وہ پیمان وفا ا سے سمت لہروں کی دھمک تکبر گھڑا آوارگی کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا ہے وہ ہے وہ نے خواب ہے وہ ہے وہ ہے وہ محسن مجھے را سے آوےگی عشق دل شاید صدا آوارگی
Mohsin Naqvi
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohsin Naqvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohsin Naqvi's ghazal.







