خمار موسم خوشبو حد چمن ہے وہ ہے وہ کھلا مری غزل کا خزا لگ تری بدن ہے وہ ہے وہ کھلا جاناں ا سے کا حسن کبھی ا سے کی بزم ہے وہ ہے وہ دیکھو کہ ماہتاب صدا شب کے پیرہن ہے وہ ہے وہ کھلا غضب نشہ تھا م گر ا سے کی بخشش لب ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا لگ حقیقت سخن ہے وہ ہے وہ کھلا لگ پوچھ پہلی ملاقات ہے وہ ہے وہ مزاج ا سے کا حقیقت رنگ رنگ ہے وہ ہے وہ سمٹا کرن کرن ہے وہ ہے وہ کھلا بدن کی چاپ نگہ کی زبان بھی ہوتی ہے یہ بھیڈ ہم پہ م گر ا سے کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ کھلا کہ چنو ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائے سفر کی شام میرا مہرباں تھکن ہے وہ ہے وہ کھلا ک ہوں ہے وہ ہے وہ ک سے سے نشانی تھی ک سے مسیحا کی حقیقت ایک زخم کہ محسن مری کفن ہے وہ ہے وہ کھلا
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Mohsin Naqvi
عذاب دید ہے وہ ہے وہ آنکھیں لہو لہو کر کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے کھنڈر کی تہ سے بریدا بدن سروں کے سوا ملا لگ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے سنا ہے شہر ہے وہ ہے وہ اڑھائی دلوں کا میلا ہے چلیں گے ہم بھی م گر پیرہن رفو کر کے مسافت شب ہجراں کے بعد بھیڈ کھلا ہوا دکھی ہے چراغوں کی رکھ کر کے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی پیا سے اسی کے لہو کو چاٹ گئی حقیقت خوش ہوا تھا سمندر کو آبجو کر کے یہ ک سے نے ہم سے لہو کا خراج قیصری پھروں مانگا ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے جلو سے اہل وفا ک سے کے در پہ پہنچا ہے نشان طوق وفا زینت گلو کر کے اجاڑ رت کو اولیں بنائے رکھتی ہے ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے کوئی تو حب سے ہوا سے یہ پوچھتا محسن ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے
Mohsin Naqvi
1 likes
जब से उस ने शहर को छोड़ा हर रस्ता सुनसान हुआ अपना क्या है सारे शहर का इक जैसा नुक़सान हुआ ये दिल ये आसेब की नगरी मस्कन सोचूँ वहमों का सोच रहा हूँ इस नगरी में तू कब से मेहमान हुआ सहरा की मुँह-ज़ोर हवाएँ औरों से मंसूब हुईं मुफ़्त में हम आवारा ठहरे मुफ़्त में घर वीरान हुआ मेरे हाल पे हैरत कैसी दर्द के तन्हा मौसम में पत्थर भी रो पड़ते हैं इंसान तो फिर इंसान हुआ इतनी देर में उजड़े दिल पर कितने महशर बीत गए जितनी देर में तुझ को पा कर खोने का इम्कान हुआ कल तक जिस के गिर्द था रक़्साँ इक अम्बोह सितारों का आज उसी को तन्हा पा कर मैं तो बहुत हैरान हुआ उस के ज़ख़्म छुपा कर रखिए ख़ुद उस शख़्स की नज़रों से उस से कैसा शिकवा कीजे वो तो अभी नादान हुआ जिन अश्कों की फीकी लौ को हम बे-कार समझते थे उन अश्कों से कितना रौशन इक तारीक मकान हुआ यूँँ भी कम-आमेज़ था 'मोहसिन' वो इस शहर के लोगों में लेकिन मेरे सामने आ कर और भी कुछ अंजान हुआ
Mohsin Naqvi
0 likes
नया है शहर नए आसरे तलाश करूँँ तू खो गया है कहाँ अब तुझे तलाश करूँँ जो दश्त में भी जलाते थे फ़स्ल-ए-गुल के चराग़ मैं शहर में भी वही आबले तलाश करूँँ तू अक्स है तो कभी मेरी चश्म-ए-तर में उतर तिरे लिए मैं कहाँ आइने तलाश करूँँ तुझे हवा से की आवारगी का इल्म कहाँ कभी मैं तुझ को तिरे सामने तलाश करूँँ ग़ज़ल कहूँ कभी सादास ख़त लिखूँ उस को उदास दिल के लिए मश्ग़ले तलाश करूँँ मिरे वजूद से शायद मिले सुराग़ तिरा कभी मैं ख़ुद को तिरे वास्ते तलाश करूँँ मैं चुप रहूँ कभी बे-वज्ह हँस पड़ूँ 'मोहसिन' उसे गँवा के अजब हौसले तलाश करूँँ
Mohsin Naqvi
2 likes
ہوا ہجر ہے وہ ہے وہ جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا کہ پیرہن تو گیا تو تھا بدن بھی چاک ہوا اب ا سے سے ترک تعلق کروں تو مر جاؤں بدن سے روح کا ا سے درجہ اشتراک ہوا یہی کہ سب کی عزائم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ ٹوٹی ہیں چلو حساب صف دوستاں تو پاک ہوا حقیقت بے سبب یوںہی روٹھا ہے گل آرزو کے لیے یہ سانحہ لگ صحیح پھروں بھی کرب ناک ہوا اسی کے قرب نے تقسیم کر دیا آخر حقیقت ج سے کا ہجر مجھے وجہ انہماک ہوا شدید وار لگ دشمن دلیر تھا محسن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی بے خبری سے م گر انداز وصل ہوا
Mohsin Naqvi
0 likes
اب حقیقت طوفاں ہے لگ حقیقت شور ہواؤں جیسا دل کا عالم ہے تری بعد خلاوں جیسا کاش دنیا مری احسا سے کو واپ سے کر دے خموشی کا وہی انداز صداؤں جیسا پا سے رہ کر بھی ہمیشہ حقیقت بے حد دور ملا ا سے کا انداز ت غافل تھا خداؤں جیسا کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احسا سے مآل پھول کھیل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا کیا خوشگوار ہے کہ دنیا اسے سردار کہے ج سے کا انداز سخن بھی ہوں گداؤں جیسا پھروں تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر پھروں مری دل ہے وہ ہے وہ اٹھا شور ہواؤں جیسا بارہا خواب ہے وہ ہے وہ پا کر مجھے پیاسا محسن ا سے کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
Mohsin Naqvi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohsin Naqvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohsin Naqvi's ghazal.







