ghazalKuch Alfaaz

تری گالی مجھ دل کو پیاری لگے دعا مری تجھ من ہے وہ ہے وہ بھاری لگے ت گرا دودمان عاشق کی بوجھے سجن کسی ساتھ ا گر تجھ کوں یاری لگے بھلا دیوے حقیقت عیش و آرام سب جسے زلف سیں بے قراری لگے نہیں تجھ سا اور شوخ اے من ہرن تری بات دل کو نیاری لگے بواں تیری شمشیر زلفاں کمند پلک تیری چنو کتاری لگے ہوئے سرو بازار دامن کا دیکھ ا گر گرد دامن کناری لگے لگ جانوں تو ساقی تھا ک سے بزم کا نہین تیری مجھ کوں خماری لگے وہی دودمان فائز کی جانے بے حد جسے عشق کا زخم کاری لگے

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Faez Dehlvi

مجھ پا سے کبھی حقیقت قد شمشاد لگ آیا ا سے گھر منا حقیقت دل بر استاد لگ آیا گلشن مری اکھیاں ہے وہ ہے وہ لگے گلخن دوزخ جو سیر کو مجھ ساتھ پری زاد لگ آیا سانجھ آئی د یوں دن لڑکھڑاتے ہوا فکر ہے وہ ہے وہ آخر حقیقت دل بر جادو گر و صیاد لگ آیا آیا لگ ہم لگ پا سے کیا وعدہ خلافی فائز کا کچھ احوال م گر یاد لگ آیا

Faez Dehlvi

0 likes

میرا محبوب سب کا من ہرن ہے نظر کر دیکھ حقیقت آہو نین ہے نہیں اب جگ ہے وہ ہے وہ ویسا اور ساجن مجھے صورت شناسی بیچ فن ہے سبی دیوانے ہیں ا سے معنی دل کے م گر حقیقت دلربا جادو نہین ہے کرے رشک گلستاں دل کو فائز میرا ساجن بہار انجمن ہے

Faez Dehlvi

0 likes

میری جاں وہ بادہ خواری یاد ہے وقت مستی گریہ زاری یاد ہے موتیا کا ہار و چمپا کی چھڑی جوڑا دامن کناری یاد ہے سب ابھوکن تیرے تن پر خوشنما خوبی انگیا و ساری یاد ہے ابر کا سایہ و سبزہ راہ کا جان من رتھ کی سواری یاد ہے کوئلاں کے نالے امرائی کے بیچ اس سمے کی بے قراری یاد ہے میںہ لڑکھڑاتے تو تھمتا تھا بوند بوند فائز اس دن کی سواری یاد ہے

Faez Dehlvi

0 likes

یار میرا میان گلشن ہے غرق خوں پھول تا ب دامن ہے دل لبھاتا ہے سب کا حقیقت ساجن دل فریبی ہے وہ ہے وہ ا سے کو کیا فن ہے تارے جیوں در ہے ج سے کے حلقہ بگوش حقیقت بنا گوش صبح روشن ہے ا سے نظارے سے سب سلطان ہوئے حقیقت نہین کیا بلا رہ زن ہے کیا بیاں کر سکون ہے وہ ہے وہ گت ا سے کی فائز ات خوش ادا سریجن ہے

Faez Dehlvi

0 likes

بے سبب ہم سے جدائی لگ کروں مجھ سے عاشق سے برائی لگ کروں خاکساراں کو لگ کریے پامال جگ ہے وہ ہے وہ فرعون سی خدائی لگ کروں بے گنا ہاں کوں لگ کر ڈالو قتل آہ کوں تیر ہوائی لگ کروں ایک دل جاناں سے نہیں ہے رازی جگ ہے وہ ہے وہ ہر اک سوں برائی لگ کروں محو ہے فائز شیدا جاناں پر ا سے سے ہر لہجہ بخائی لگ کروں

Faez Dehlvi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faez Dehlvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faez Dehlvi's ghazal.