تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے مختلف حجرہ ہفت آسمان اٹھائے ہوئے کوئی درخت سرائے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں پرندے اپنی پریشانیاں بھلائے ہوئے مری سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد ہے وہ ہے وہ ہے وہ جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دیکھتے تھے جن کو دیکھتے تھے ہم حقیقت خواب خاک ہوئے اور حقیقت لوگ سائے ہوئے شکاریوں سے مری احتجاج ہے وہ ہے وہ بابر درخت آج بھی شامل تھے ہاتھ اٹھائے ہوئے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
More from Idris Babar
ایک دن خواب ن گر جانا ہے اور یوںہی خاک بسر جانا ہے عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی یہ اسی خواب کا ہرجا لگ ہے گھر سے ک سے سمے چلے تھے ہم لوگ خیر اب کون سا گھر جانا ہے موت کی پہلی علامت صاحب یہی احسا سے کا مر جانا ہے کسی تقریب جدائی کے بغیر ٹھیک ہے جاؤ ا گر جانا ہے شور کی دھول ہے وہ ہے وہ گم گلیوں سے دل کو چپ چاپ گزر جانا ہے
Idris Babar
2 likes
اب مسافت ہے وہ ہے وہ تو آرام نہیں آ سکتا یہ ستارہ بھی مری کام نہیں آ سکتا یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو ای سے کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں باغ ہے وہ ہے وہ کوئی سیاہ فام نہیں آ سکتا ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا کہ ہری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بجھنے والوں ہے وہ ہے وہ میرا نام نہیں آ سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے شہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا ڈر ہی لگتا ہے کہ رستے ہے وہ ہے وہ نہ رہ جاؤں کہیں کہلواؤ دیجیے ہے وہ ہے وہ شام نہیں آ سکتا
Idris Babar
0 likes
وہ گل وہ خواب شار بھی نہیں رہا سو دل یہ خاکسار بھی نہیں رہا یہ دل تو اس کے نام کا پڑاو ہے جہاں وہ ایک بار بھی نہیں رہا پڑا ہے خود سے واسطہ اور اس کے بعد کسی کا اعتبار بھی نہیں رہا یہ رنج اپنی اصل شکل میں ہے دوست کہ میں اسے سنوارت بھی نہیں رہا یہ وقت بھی گزر نہیں رہا ہے اور میں خود اسے گزار بھی نہیں رہا
Idris Babar
0 likes
کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے مری عزیز کو ہر اک بہانا آتا ہے ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے ستارے دیکھ کے جلتے ہیں آنکھیں ملتے ہیں اک آدمی لیے شمع فسانہ آتا ہے ابھی جزیرے پہ ہم تم نئے نئے تو ہیں دوست ڈرو نہیں مجھے سب کچھ بنانا آتا ہے یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیں فقط گھرانے کے پیچھے گھرانا آتا ہے یہ بات چلتی ہے سینہ بہ سینہ چلتی ہے وہ ساتھ آتا ہے شانہ ب شانہ آتا ہے گلاب سنیما سے پہلے چاند باغ کے بعد اتر پڑوںگا جہاں کارخانہ آتا ہے یہ کہ کے اس نے سیمسٹر بریک کر ڈالا سنا تھا آپ کو لکھنا لکھانا آتا ہے زمانے ہو گئے دریا تو کہ گیا تھا مجھے بس ایک موج کو کر کے روانہ آتا ہے چھلک نہ جائے میرا رنج میری آنکھوں سے تمہیں تو اپنی خوشی کو چھپانا آنا ہے وہ روز بھر کے خلائی جہاز اڑاتے پھریں ہمیں بھی رج کے تمسخر اڑانا آتا ہے پچاس میل ہے خشکی سے بحریہ ٹاؤن بس ایک گھنٹے میں اچھا زمانہ آتا ہے بریک ڈانس سکھایا ہے ناو نے دل کو ہوا کا گیت سمندر
Idris Babar
0 likes
دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ میرے دوست کئی صحرا میرے ہمدم کئی دریا میرے دوست تو بھی ہوں ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہوں اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا میرے دوست تیری آنکھوں پہ میرا خواب سفر ختم ہوا چنو ساحل پہ اتر جائے سفینہ میرے دوست آب و زیست بے معنی وہی بے سر و سامانی وہی پھروں بھی جب تک ہے تیری دھوپ کا سایہ میرے دوست اب تو لگتا ہے جدائی کا سبب کچھ بھی نہ تھا آدمی بھول بھی سکتا ہے نہ رستہ میرے دوست راہ تکتے ہیں کہیں دور کئی سست چراغ اور ہوا تیز ہوئی جاتی ہے اچھا میرے دوست
Idris Babar
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Idris Babar.
Similar Moods
More moods that pair well with Idris Babar's ghazal.







