ghazalKuch Alfaaz

ایک دن خواب ن گر جانا ہے اور یوںہی خاک بسر جانا ہے عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی یہ اسی خواب کا ہرجا لگ ہے گھر سے ک سے سمے چلے تھے ہم لوگ خیر اب کون سا گھر جانا ہے موت کی پہلی علامت صاحب یہی احسا سے کا مر جانا ہے کسی تقریب جدائی کے بغیر ٹھیک ہے جاؤ ا گر جانا ہے شور کی دھول ہے وہ ہے وہ گم گلیوں سے دل کو چپ چاپ گزر جانا ہے

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں

Varun Anand

63 likes

تیرا چپ رہنا مری ذہن ہے وہ ہے وہ کیا بیٹھ گیا تو اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلہ بیٹھ گیا تو یوں نہیں ہے کہ فقط ہے وہ ہے وہ ہی اسے چاہتا ہوں جو بھی ا سے پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گیا تو بیٹھ گیا تو اتنا میٹھا تھا حقیقت نبھائیے بھرا لہجہ مت پوچھ ا سے نے ج سے کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا تو اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں چیختی جاناں رہی اور میرا گلہ بیٹھ گیا تو ا سے کی مرضی حقیقت جسے پا سے بٹھا لے اپنے ا سے پہ کیا لڑنا شہر خاموشاں مری جگہ بیٹھ گیا تو بات دریاؤں کی سورج کی لگ تیری ہے ی ہاں دو قدم جو بھی مری ساتھ چلا بیٹھ گیا تو بزم جاناں ہے وہ ہے وہ نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص جو بھی اک بار ج ہاں بیٹھ گیا تو بیٹھ گیا تو

Tehzeeb Hafi

203 likes

More from Idris Babar

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے مختلف حجرہ ہفت آسمان اٹھائے ہوئے کوئی درخت سرائے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں پرندے اپنی پریشانیاں بھلائے ہوئے مری سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد ہے وہ ہے وہ ہے وہ جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دیکھتے تھے جن کو دیکھتے تھے ہم حقیقت خواب خاک ہوئے اور حقیقت لوگ سائے ہوئے شکاریوں سے مری احتجاج ہے وہ ہے وہ بابر درخت آج بھی شامل تھے ہاتھ اٹھائے ہوئے

Idris Babar

1 likes

اب مسافت ہے وہ ہے وہ تو آرام نہیں آ سکتا یہ ستارہ بھی مری کام نہیں آ سکتا یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو ای سے کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں باغ ہے وہ ہے وہ کوئی سیاہ فام نہیں آ سکتا ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا کہ ہری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بجھنے والوں ہے وہ ہے وہ میرا نام نہیں آ سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے شہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا ڈر ہی لگتا ہے کہ رستے ہے وہ ہے وہ نہ رہ جاؤں کہیں کہلواؤ دیجیے ہے وہ ہے وہ شام نہیں آ سکتا

Idris Babar

0 likes

وہ گل وہ خواب شار بھی نہیں رہا سو دل یہ خاکسار بھی نہیں رہا یہ دل تو اس کے نام کا پڑاو ہے جہاں وہ ایک بار بھی نہیں رہا پڑا ہے خود سے واسطہ اور اس کے بعد کسی کا اعتبار بھی نہیں رہا یہ رنج اپنی اصل شکل میں ہے دوست کہ میں اسے سنوارت بھی نہیں رہا یہ وقت بھی گزر نہیں رہا ہے اور میں خود اسے گزار بھی نہیں رہا

Idris Babar

0 likes

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے مری عزیز کو ہر اک بہانا آتا ہے ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے ستارے دیکھ کے جلتے ہیں آنکھیں ملتے ہیں اک آدمی لیے شمع فسانہ آتا ہے ابھی جزیرے پہ ہم تم نئے نئے تو ہیں دوست ڈرو نہیں مجھے سب کچھ بنانا آتا ہے یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیں فقط گھرانے کے پیچھے گھرانا آتا ہے یہ بات چلتی ہے سینہ بہ سینہ چلتی ہے وہ ساتھ آتا ہے شانہ ب شانہ آتا ہے گلاب سنیما سے پہلے چاند باغ کے بعد اتر پڑوںگا جہاں کارخانہ آتا ہے یہ کہ کے اس نے سیمسٹر بریک کر ڈالا سنا تھا آپ کو لکھنا لکھانا آتا ہے زمانے ہو گئے دریا تو کہ گیا تھا مجھے بس ایک موج کو کر کے روانہ آتا ہے چھلک نہ جائے میرا رنج میری آنکھوں سے تمہیں تو اپنی خوشی کو چھپانا آنا ہے وہ روز بھر کے خلائی جہاز اڑاتے پھریں ہمیں بھی رج کے تمسخر اڑانا آتا ہے پچاس میل ہے خشکی سے بحریہ ٹاؤن بس ایک گھنٹے میں اچھا زمانہ آتا ہے بریک ڈانس سکھایا ہے ناو نے دل کو ہوا کا گیت سمندر

Idris Babar

0 likes

دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر ہم سو گئے خواب سے لپٹ کر اب دل ہے وہ ہے وہ حقیقت سب ک ہاں ہے دیکھو بغداد کہانیوں سے ہٹ کر شاید یہ شجر وہی ہوں ج سے پر دیکھو تو ذرا ورق الٹ کر اک خوف زدہ سا بے وجہ گھر تک پہنچا کئی راستوں ہے وہ ہے وہ بٹ کر کاغذ پہ حقیقت نجم کھیل اٹھی ہے اگ آیا ہے پھروں درخت کٹ کر بابر یہ پرند تھک گئے تھے بیٹھے ہیں جو خاک پر سمٹ کر

Idris Babar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Idris Babar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Idris Babar's ghazal.