ghazalKuch Alfaaz

دیکھا نہیں چاند نے پلٹ کر ہم سو گئے خواب سے لپٹ کر اب دل ہے وہ ہے وہ حقیقت سب ک ہاں ہے دیکھو بغداد کہانیوں سے ہٹ کر شاید یہ شجر وہی ہوں ج سے پر دیکھو تو ذرا ورق الٹ کر اک خوف زدہ سا بے وجہ گھر تک پہنچا کئی راستوں ہے وہ ہے وہ بٹ کر کاغذ پہ حقیقت نجم کھیل اٹھی ہے اگ آیا ہے پھروں درخت کٹ کر بابر یہ پرند تھک گئے تھے بیٹھے ہیں جو خاک پر سمٹ کر

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Idris Babar

ایک دن خواب ن گر جانا ہے اور یوںہی خاک بسر جانا ہے عمر بھر کی یہ جو ہے بے خوابی یہ اسی خواب کا ہرجا لگ ہے گھر سے ک سے سمے چلے تھے ہم لوگ خیر اب کون سا گھر جانا ہے موت کی پہلی علامت صاحب یہی احسا سے کا مر جانا ہے کسی تقریب جدائی کے بغیر ٹھیک ہے جاؤ ا گر جانا ہے شور کی دھول ہے وہ ہے وہ گم گلیوں سے دل کو چپ چاپ گزر جانا ہے

Idris Babar

2 likes

تری گلی سے گزرنے کو سر جھکائے ہوئے مختلف حجرہ ہفت آسمان اٹھائے ہوئے کوئی درخت سرائے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جا بیٹھیں پرندے اپنی پریشانیاں بھلائے ہوئے مری سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد ہے وہ ہے وہ ہے وہ جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دیکھتے تھے جن کو دیکھتے تھے ہم حقیقت خواب خاک ہوئے اور حقیقت لوگ سائے ہوئے شکاریوں سے مری احتجاج ہے وہ ہے وہ بابر درخت آج بھی شامل تھے ہاتھ اٹھائے ہوئے

Idris Babar

1 likes

اب مسافت ہے وہ ہے وہ تو آرام نہیں آ سکتا یہ ستارہ بھی مری کام نہیں آ سکتا یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو ای سے کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں باغ ہے وہ ہے وہ کوئی سیاہ فام نہیں آ سکتا ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا کہ ہری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بجھنے والوں ہے وہ ہے وہ میرا نام نہیں آ سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے شہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا ڈر ہی لگتا ہے کہ رستے ہے وہ ہے وہ نہ رہ جاؤں کہیں کہلواؤ دیجیے ہے وہ ہے وہ شام نہیں آ سکتا

Idris Babar

0 likes

وہ گل وہ خواب شار بھی نہیں رہا سو دل یہ خاکسار بھی نہیں رہا یہ دل تو اس کے نام کا پڑاو ہے جہاں وہ ایک بار بھی نہیں رہا پڑا ہے خود سے واسطہ اور اس کے بعد کسی کا اعتبار بھی نہیں رہا یہ رنج اپنی اصل شکل میں ہے دوست کہ میں اسے سنوارت بھی نہیں رہا یہ وقت بھی گزر نہیں رہا ہے اور میں خود اسے گزار بھی نہیں رہا

Idris Babar

0 likes

کسی کے ہاتھ کہاں یہ خزانہ آتا ہے مری عزیز کو ہر اک بہانا آتا ہے ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے ستارے دیکھ کے جلتے ہیں آنکھیں ملتے ہیں اک آدمی لیے شمع فسانہ آتا ہے ابھی جزیرے پہ ہم تم نئے نئے تو ہیں دوست ڈرو نہیں مجھے سب کچھ بنانا آتا ہے یہاں چراغ سے آگے چراغ جلتا نہیں فقط گھرانے کے پیچھے گھرانا آتا ہے یہ بات چلتی ہے سینہ بہ سینہ چلتی ہے وہ ساتھ آتا ہے شانہ ب شانہ آتا ہے گلاب سنیما سے پہلے چاند باغ کے بعد اتر پڑوںگا جہاں کارخانہ آتا ہے یہ کہ کے اس نے سیمسٹر بریک کر ڈالا سنا تھا آپ کو لکھنا لکھانا آتا ہے زمانے ہو گئے دریا تو کہ گیا تھا مجھے بس ایک موج کو کر کے روانہ آتا ہے چھلک نہ جائے میرا رنج میری آنکھوں سے تمہیں تو اپنی خوشی کو چھپانا آنا ہے وہ روز بھر کے خلائی جہاز اڑاتے پھریں ہمیں بھی رج کے تمسخر اڑانا آتا ہے پچاس میل ہے خشکی سے بحریہ ٹاؤن بس ایک گھنٹے میں اچھا زمانہ آتا ہے بریک ڈانس سکھایا ہے ناو نے دل کو ہوا کا گیت سمندر

Idris Babar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Idris Babar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Idris Babar's ghazal.