teri har baat mohabbat men gavara kar ke dil ke bazar men baithe hain khasara kar ke aate jaate hain kai rang mire chehre par log lete hain maza zikr tumhara kar ke ek chingari nazar aai thi basti men use vo alag hat gaya andhi ko ishara kar ke asmanon ki taraf phenk diya hai main ne chand mitti ke charaghhon ko sitara kar ke main vo dariya huun ki har buund bhanvar hai jis ki tum ne achchha hi kiya mujh se kinara kar ke muntazir huun ki sitaron ki zara aankh lage chand ko chhat pe bula lunga ishara kar ke teri har baat mohabbat mein gawara kar ke dil ke bazar mein baithe hain khasara kar ke aate jate hain kai rang mere chehre par log lete hain maza zikr tumhaara kar ke ek chingari nazar aai thi basti mein use wo alag hat gaya aandhi ko ishaara kar ke aasmanon ki taraf phenk diya hai main ne chand mitti ke charaghon ko sitara kar ke main wo dariya hun ki har bund bhanwar hai jis ki tum ne achchha hi kiya mujh se kinara kar ke muntazir hun ki sitaron ki zara aankh lage chand ko chhat pe bula lunga ishaara kar ke
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Rahat Indori
یوں صدا دیتے ہوئے تری خیال آتے ہیں چنو کعبہ کی کھلی چھت پہ بلال آتے ہیں روز ہم اشکوں سے دھو آتے ہیں دیوار حرم پگڑیاں روز فرشتوں کی اچھال آتے ہیں ہاتھ ابھی پیچھے بندھے رہتے ہیں چپ رہتے ہیں دیکھنا یہ ہے تجھے کتنے غصہ آتے ہیں چاند سورج مری چوکھٹ پہ کئی صدیوں سے روز لکھے ہوئے چہرے پہ سوال آتے ہیں بے حسی مردہ دلی رقص شرابیں نغمے ب سے اسی راہ سے قوموں پہ زوال آتے ہیں
Rahat Indori
3 likes
چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیا تو آئی لگ سارے شہر کی بینائی لے گیا تو ڈوبے ہوئے جہاز پہ کیا تبصرہ کریں یہ حادثہ تو سوچ کی گہرائی لے گیا تو حالانکہ بے زبان تھا لیکن عجیب تھا جو بے وجہ مجھ سے چھین کے گویائی لے گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج اپنے گھر سے نکلنے لگ پاؤں گا ب سے اک قمیص تھی جو میرا بھائی لے گیا تو تاکتے تمہارے واسطے اب کچھ نہیں رہا گلیوں کے سارے سنگ تو سودائی لے گیا تو
Rahat Indori
19 likes
حقیقت اک اک بات پہ رونے لگا تھا سمندر رکھ کھونے لگا تھا لگے رہتے تھے سب دروازے پھروں بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھیں کھول کر سونے لگا تھا چراتا ہوں اب آنکھیں آئینوں سے خدا کا سامنا ہونے لگا تھا حقیقت اب آئینے دھوتا پھروں رہا ہے اسے چہرے پہ شک ہونے لگا تھا مجھے اب دیکھ کر ہنستی ہے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب کے سامنے رونے لگا تھا
Rahat Indori
0 likes
شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری
Rahat Indori
4 likes
تمہارے نام پر ہے وہ ہے وہ نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی نظر شعلوں پہ رکھی تھی زبان پتھر پہ رکھی تھی ہمارے خواب تو شہروں کی سڑکوں پر بھٹکتے تھے تمہاری یاد تھی جو رات بھر بستر پہ رکھی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا عزم لے کر منزلوں کی سمت نکلا تھا مشقت ہاتھ پہ رکھی تھی قسمت گھر پہ رکھی تھی انہی سانسوں کے چکر نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دن د کھائے تھے ہمارے پاؤں کی مٹی ہمارے سر پہ رکھی تھی سحر تک جاناں جو آ جاتے تو منظر دیکھ سکتے تھے دیے پلکوں پہ رکھے تھے شکن بستر پہ رکھی تھی
Rahat Indori
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.







