ghazalKuch Alfaaz

ٹھانی تھی دل ہے وہ ہے وہ اب لگ ملیںگے کسی سے ہم پر کیا کریں کہ ہوں گئے ناچار جی سے ہم زار جو دیکھتے ہیں کسی کو کسی سے ہم منا دیکھ دیکھ روتے ہیں ک سے بےکسی سے ہم ہم سے لگ بولو جاناں اسے کیا کہتے ہیں بھلا انصاف کیجے پوچھتے ہیں آپ ہی سے ہم بے زار جان سے جو لگ ہوتے تو مانگتے شاہد شکایتوں پہ تری مدعی سے ہم ا سے کو ہے وہ ہے وہ جا مرینگے مدد اے ہجوم شوق آج اور زور کرتے ہیں موج خیز سے ہم صاحب نے ا سے غلام کو آزاد کر دیا لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم ان نا تاونیوں پہ بھی تھے خار راہ غیر کیوںکر نکالے جاتے لگ ا سے کی گلی سے ہم منا دیکھنے سے پہلے بھی ک سے دن حقیقت صاف تھا بے وجہ کیوں غمدیدہ رکھیں آرسی سے ہم ہے چھیڑ اختلاط بھی غیروں کے سامنے ہنسنے کے بدلے روئیں لگ کیوں گدگ گرا سے ہم وحشت ہے عشق پردہ نشین ہے وہ ہے وہ دم بکا منا ڈھانکتے ہیں پردہ چشم پری سے ہم کیا دل کو لے گیا تو کوئی بیگانا آشنا کیوں اپنے جی کو لگتے ہیں کچھ اجنبی سے ہم لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیں مومن لگ ہوں جو ربط

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Momin Khan Momin.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Momin Khan Momin's ghazal.