ghazalKuch Alfaaz

ترے سنگار کے بن میں تماشا میں نول دیکھا سرو کے جھاڑ کوں نرمل اناراں سے دو پھل دیکھا ترا قد نیشکر جانوں مکیاں جوبن چنپے کیاں دو ترے سینے کے جل میانے کچن کے دو کنول دیکھا سہاوے چولی نارنجی ہرے ڈالیاں منے تیرے چھے پاتاں میں جیوں نارنج یوں کچ پر انچل دیکھا ترے اس نخل خرماں کوں جوبن امرت دو پھل لاگے کچن کی گیند کوں نیلم جڑے سو میں اصل دیکھا ہوا ہے ہاشمیؔ مالی ترے سنگار کے بن میں لگے تجھ قد کی ڈالی پر کچن دو پھل نچھل دیکھا

Related Ghazal

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

اشک ناداں سے کہو بعد میں اڑائیں گے آپ گرکر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے اپنے لفظوں کو تکلم سے گرا کر جانا اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بکھر جائیں گے اک تیرا گھر تھا میری حد مسافت لیکن اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گزر جائیں گے اپنے افکار جلا ڈالیںگے کاغذ کاغذ سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے ہم نے سوچا ہے کہ ہم تم سے بچھڑ جائیں گے

Khalil Ur Rehman Qamar

50 likes

زندگی بھر پھول ہی بھیجواؤگے یا کسی دن خود بھی ملنے آوگے پہرے داروں سے بچوں گا کب تلک دوست جاناں ایک دن مجھے مرواؤگے خود کو آئینے ہے وہ ہے وہ کم دیکھا کروں ایک دن سورج مکھی بن جاؤگے

Tehzeeb Hafi

88 likes

آپ چنو کے لیے ا سے ہے وہ ہے وہ رکھا کچھ بھی نہیں لیکن ایسا تو لگ کہیے کہ وفا کچھ بھی نہیں آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے م گر ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی طرح بھی سمجھوتا نہیں کر سکتا یا تو سب کچھ ہی مجھے چاہیے یا کچھ بھی نہیں کیسے جانا ہے ک ہاں جانا ہے کیوں جانا ہے ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں پتا کچھ بھی نہیں ہاں یہ ا سے شہر کی رونق کے ہے وہ ہے وہ صدقے جاؤں ایسی بھرپور ہے چنو کہ ہوا کچھ بھی نہیں پھروں کوئی تازہ سخن دل ہے وہ ہے وہ جگہ کرتا ہے جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں اب ہے وہ ہے وہ کیا اپنی محبت کا بھرم بھی لگ رکھوں مان لیتا ہوں کہ ا سے بے وجہ ہے وہ ہے وہ تھا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے ا پیش رہ کے بھی دیکھا جواد ایسی منا زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں

Jawwad Sheikh

50 likes

پتا کے ماتھے آیا بس شکن کا دکھ کسی مفلس سے پوچھو پیرہن کا دکھ سبھی نے رام کا ہی کشت دیکھا بس تھا دشرتھ کی بھی آنکھوں ہے وہ ہے وہ وچن کا دکھ فقط دلبر کے جسموں تک ہی محدود ہے نہ جانے کیوں سخن ور کے سخن کا دکھ محبت ہے وہ ہے وہ کلائی کاٹنے والے سمجھتے ہی نہیں 9 بہن کا دکھ بنا مرضی کسی سے بیاہ دی جائے وہی لڑکی بتائےگی چھون کا دکھ گلے بھی لگ نہ پائے وصل ہے وہ ہے وہ اس کا کے بھلا اب اور کیا ہوگا بدن کا دکھ یہاں ہر بے وجہ خوں کا پیاسا لگتا ہے یقیناً مذہبی غن ہے وطن کا دکھ مجھے فٹ پاتھ کا منظر بتاتا ہے کہ مزدوروں نے چکھا ہے تھکن کا دکھ

Harsh saxena

16 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on ہاشمی بیجاپوری.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with ہاشمی بیجاپوری's ghazal.