ghazalKuch Alfaaz

tujh se badh kar koi pyara bhi nahin ho sakta par tira saath gavara bhi nahin ho sakta rasta bhi ghhalat ho sakta hai manzil bhi ghhalat har sitara to sitara bhi nahin ho sakta paanv rakhte hi phisal sakta hai mitti ho ki ret har kinara to kinara bhi nahin ho sakta us tak avaz pahunchni bhi badi mushkil hai aur na dekhe to ishara bhi nahin ho sakta tere bandon ki maishat ka ajab haal hua aish kaisa ki guzara bhi nahin ho sakta apna dushman hi dikhai nahin deta ho jise aisa lashkar to saf-ara bhi nahin ho sakta pahle hi lazzat-e-inkar se vaqif nahin jo us se inkar dobara bhi nahin ho sakta husn aisa ki chaka-chaund hui hain ankhen hairat aisi ki nazzara bhi nahin ho sakta chaliye vo shakhs hamara to kabhi tha hi nahin dukh to ye hai ki tumhara bhi nahin ho sakta duniya achchhi bhi nahin lagti ham aison ko 'salim' aur duniya se kinara bhi nahin ho sakta tujh se badh kar koi pyara bhi nahin ho sakta par tera sath gawara bhi nahin ho sakta rasta bhi ghalat ho sakta hai manzil bhi ghalat har sitara to sitara bhi nahin ho sakta panw rakhte hi phisal sakta hai mitti ho ki ret har kinara to kinara bhi nahin ho sakta us tak aawaz pahunchni bhi badi mushkil hai aur na dekhe to ishaara bhi nahin ho sakta tere bandon ki maishat ka ajab haal hua aish kaisa ki guzara bhi nahin ho sakta apna dushman hi dikhai nahin deta ho jise aisa lashkar to saf-ara bhi nahin ho sakta pahle hi lazzat-e-inkar se waqif nahin jo us se inkar dobara bhi nahin ho sakta husn aisa ki chaka-chaund hui hain aankhen hairat aisi ki nazzara bhi nahin ho sakta chaliye wo shakhs hamara to kabhi tha hi nahin dukh to ye hai ki tumhaara bhi nahin ho sakta duniya achchhi bhi nahin lagti hum aison ko 'salim' aur duniya se kinara bhi nahin ho sakta

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Saleem Kausar

کہانی لکھتے ہوئے داستان سناتے ہوئے حقیقت سو گیا تو ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے دیے کی لو سے چھلکتا ہے ا سے کے حسن کا عک سے سنگار کرتے ہوئے آئی لگ سجاتے ہوئے اب ا سے جگہ سے کئی راستے نکلتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گم ہوا تھا ج ہاں راستہ بتاتے ہوئے پکارتے ہیں ا نہیں ساحلوں کے سناٹے جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ہوئے پھروں ا سے نے مجھ سے کسی بات کو چھپایا نہیں حقیقت کھل گیا تو تھا کسی بات کو چھپاتے ہوئے مجھہی ہے وہ ہے وہ تھا حقیقت ستارہ صفت کہ ج سے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھک گیا تو ہوں زمانے کی خاک اڑاتے ہوئے مزاروں اور منڈیروں کے رت جگوں ہے وہ ہے وہ سلیم بدن پگھلنے لگے ہیں دیے جلاتے ہوئے

Saleem Kausar

8 likes

ہے وہ ہے وہ خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے رشتہ شہرت عام میرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کے دست طلب ہے وہ ہے وہ ہوں تو کسی کے حرف دعا ہے وہ ہے وہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے مری روشنی تری خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں تری داستان کوئی اور تھی میرا واقعہ کوئی اور ہے وہی مجرم حق کی روایات وہی فیصلوں کی عبارتیں میرا جرم تو کوئی اور تھا بچیں مری سزا کوئی اور ہے کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے جنہیں راستے ہے وہ ہے وہ خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے جو مری ریاضت نیم شب کو سلیم صبح نہ مل سکی تو پھروں ای سے کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے

Saleem Kausar

7 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Saleem Kausar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Saleem Kausar's ghazal.