تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست تو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوست لوگ ہر بات کا افسا لگ بنا دیتے ہیں یہ تو دنیا ہے مری جاں کئی دشمن کئی دوست تری قامت سے بھی لپٹی ہے گھبرائیے بیل کوئی مری چاہت کو بھی دنیا کی نظر کھا گئی دوست یاد آئی ہے تو پھروں ٹوٹ کے یاد آئی ہے کوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست اب بھی آئی ہوں تو احسان تمہارا لیکن حقیقت خوشگوار جو گزرنی تھی گزر بھی گئی دوست تری لہجے کی تھکن ہے وہ ہے وہ ترا دل شامل ہے ایسا لگتا ہے جدائی کی گھڑی آ گئی دوست بارش سنگ کا موسم ہے مری شہر ہے وہ ہے وہ تو تو یہ شیشے سا بدن لے کے ک ہاں آ گئی دوست ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے عہد شکن کیسے سمجھ لوں ج سے نے آخری خط ہے وہ ہے وہ یہ لکھا تھا فقط آپ کی دوست
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں
Umair Najmi
59 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
More from Ahmad Faraz
کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں
Ahmad Faraz
6 likes
دل بدن کا شریک حال ک ہاں ہجر پھروں ہجر ہے وصال ک ہاں عشق ہے نام انتہاؤں کا ا سے سمندر ہے وہ ہے وہ اعتدال ک ہاں ایسا نشاط و زہر ہے وہ ہے وہ بھی لگ تھا اے غم دل تری مثال ک ہاں ہم کو بھی اپنی پائمالی کا ہے م گر ا سے دودمان ملال کہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نئی دوستی کے موڑ پہ تھا آ گیا تو ہے ترا خیال کہا دل کہ خوش فہم تھا سو ہے ور لگ تری ملنے کا احتمال ک ہاں وصل و ہجران ہیں اور دنیاہیں ان زمانوں ہے وہ ہے وہ ماہ و سال ک ہاں تجھ کو دیکھا تو لوگ حیران ہیں آ گیا تو شہر ہے وہ ہے وہ غزال ک ہاں تجھ پہ لکھی تو سج گئی ہے غزل آ ملا خواب سے خیال ک ہاں اب تو شہ مات ہوں رہی ہے فراز اب بچاؤ کی کوئی چال ک ہاں
Ahmad Faraz
1 likes
آنکھ سے دور لگ ہوں دل سے اتر جائےگا سمے کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائےگا اتنا مانو سے لگ ہوں خلوت غم سے اپنی تو کبھی خود کو بھی دیکھےگا تو ڈر جائےگا ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائےگا زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائےگا ضبط لازم ہے م گر دکھ ہے خوشگوار کا فراز ظالم اب کے بھی لگ روئےگا تو مر جائےگا
Ahmad Faraz
7 likes
کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے
Ahmad Faraz
3 likes
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
Ahmad Faraz
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.







