ghazalKuch Alfaaz

جاناں اگر سیکھنا چاہو مجھے بتلا دینا آم سا فن تو کوئی ہے نہیں تحفہ دینا ایک ہی بے وجہ ہے جس کو یہ ہنر آتا ہے روٹھ جانے پہ فضا اور بھی مہکا دینا حسن دنیا ہے وہ ہے وہ اسی کام کو بھیجا گیا تو ہے کے جہاں آگ لگی ہوں اسے بھڑکا دینا ان بزرگو کا یہی کام ہوا کرتا تھا جہاں خوبی نظر آئی اسے چمکا دینا دل بتاتا ہے مجھے عقل کی باتیں کیا کیا بندہ پوچھے کے تیرا ہے کوئی لینا دینا اور کچھ یاد نہ رہتا تھا لڑائی ہے وہ ہے وہ اسے ہاں مگر میرے گذشتہ کا حوالہ دینا اس کا کا کی فطرت ہے وہ ہے وہ نہ تھا ترک تعلق لیکن دوسرے بے وجہ کو ای سے نہد پہ پہنچا دینا جانتا تھا کہ بہت خاک اڑائےگا میری کوئی آسان نہیں تھا اسے رستہ دینا کیا پتا خود سے چھڑی جنگ کہاں لے جائے جب بھی یاد آؤں میری جان کا صدقہ دینا

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

More from Jawwad Sheikh

غم ج ہاں سے ہے وہ ہے وہ اکتا گیا تو تو کیا ہوگا خود اپنی فکر ہے وہ ہے وہ گھلنے لگا تو کیا ہوگا یہ ناگزیر ہے امید کی نمو کے لیے گزرتا سمے کہی تھم گیا تو تو کیا ہوگا یہی بے حد ہے کہ ہم کو سکون سے جینے دے کسی کے ہاتھوں ہمارا بھلا تو کیا ہوگا یہ لوگ مری خموشی پہ مجھ سے نالاں ہیں کوئی یہ پوچھے ہے وہ ہے وہ گویا ہوا تو کیا ہوگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی بے حد مختلف ہوں لوگوں سے حقیقت سوچتے ہیں کہ ایسا ہوا تو کیا ہوگا جنوں کی راہ غضب ہے کہ پاؤں دھرنے کو زمین تک بھی نہیں نقش پا تو کیا ہوگا یہ ایک خوف بھی مری خوشی ہے وہ ہے وہ شامل ہے ترا بھی دھیان ا گر ہٹ گیا تو تو کیا ہوگا جو ہوں رہا ہے حقیقت ہوتا چلا گیا تو تو پھروں جو ہونے کو ہے وہی ہوں گیا تو تو کیا ہوگا

Jawwad Sheikh

9 likes

سب کو بچاؤ خود بھی بچو فاصلہ رکھو اب اور کچھ کروں لگ کروں فاصلہ رکھو خطرہ تو مفت ہے وہ ہے وہ بھی نہیں لینا چاہیے گھر سے نکل کے مول لگ لو فاصلہ رکھو فیلحال ا سے سے بچنے کا ہے ایک راستہ حقیقت یہ کہ ا سے سے بچ کے رہو فاصلہ رکھو دشمن ہے اور طرح کا جنگ اور طرح کی آگے بڑھو لگ پیچھے ہٹو فاصلہ رکھو

Jawwad Sheikh

7 likes

ا سے نے کوئی تو دم پڑھا ہوا ہے ج سے نے دیکھا حقیقت مبتلا ہوا ہے اب تری راستے سے بچ نکلوں اک یہی راستہ بچا ہوا ہے آؤ تقریب رو نمائی کریں پاؤں ہے وہ ہے وہ ایک آبلا ہوا ہے پھروں وہی بحث چھیڑ دیتے ہوں اتنی مشکل سے رابطہ ہوا ہے رات کی واردات مت پوچھو واقعی ایک واقعہ ہوا ہے لگ رہا ہے یہ نرم لہجے سے پھروں تجھے کوئی مسئلہ ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں اور حقیقت فصیل ک ہاں فاصلے کا ہی فیصلہ ہوا ہے اتنا مصروف ہوں گیا تو ہوں کہ ب سے میر بھی اک طرف پڑا ہوا ہے آج کچھ بھی نہیں ہوا جواد ہاں م گر ایک سانحہ ہوا ہے

Jawwad Sheikh

7 likes

درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے اب تجھے قتل بھی کر دوں تو سندلی ہے مجھے مسئلہ ایسے کوئی حل تو لگ ہوگا شاید شعر کہنا ہی مری غم کی تلافی ہے مجھے مرثیہ اک نئے احسا سے نے چونکا سا دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا تھا کہ ہر سان سے اضافی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیںگی جانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے ا سے سے اندازہ لگاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ک سے حال ہے وہ ہے وہ ہوں غیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے حقیقت کہی سامنے آ جائے تو کیا ہوں جواد یاد ہی ا سے کی ا گر سی لگ شگافی ہے مجھے

Jawwad Sheikh

28 likes

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے ہم نے ب سے آپ کے لیے کیے تھے تب کہی جا کے اپنی مرضی کی پہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے کبھی ا سے کی نگہ میسر تھی کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے عقل کچھ اور کر کے بیٹھ رہی عشق نے اور فیصلے کیے تھے بات ہم نے سنی ہوئی سنی تھی کام ا سے نے کیے ہوئے کیے تھے اسے بھی ایک خط لکھا گیا تو تھا اپنے آگے بھی آئینے کیے تھے ی ہاں کچھ بھی نہیں ہے مری لیے تو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے اول آنے کا شوق تھا لیکن کام سارے ہی دوسرے کیے تھے بڑی مشکل تھی حقیقت گھڑی جواد ہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے

Jawwad Sheikh

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jawwad Sheikh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jawwad Sheikh's ghazal.