tum se pahle vo jo ik shakhs yahan takht-nashin tha us ko bhi apne khuda hone pe itna hi yaqin tha koi thahra ho jo logon ke muqabil to batao vo kahan hain ki jinhen naaz bahut apne taiin tha aaj soe hain tah-e-khak na jaane yahan kitne koi shola koi shabnam koi mahtab-jabin tha ab vo phirte hain isi shahr men tanha liye dil ko ik zamane men mizaj un ka sar-e-arsh-e-barin tha chhodna ghar ka hamen yaad hai 'jalib' nahin bhule tha vatan zehn men apne koi zindan to nahin tha tum se pahle wo jo ek shakhs yahan takht-nashin tha us ko bhi apne khuda hone pe itna hi yaqin tha koi thahra ho jo logon ke muqabil to batao wo kahan hain ki jinhen naz bahut apne tain tha aaj soe hain tah-e-khak na jaane yahan kitne koi shola koi shabnam koi mahtab-jabin tha ab wo phirte hain isi shahr mein tanha liye dil ko ek zamane mein mizaj un ka sar-e-arsh-e-barin tha chhodna ghar ka hamein yaad hai 'jalib' nahin bhule tha watan zehn mein apne koi zindan to nahin tha
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Habib Jalib
ا سے نے جب ہن سے کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت ہے وہ ہے وہ دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات لگ پوچھو یاروں ہم نے ک سے ک سے سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو ا سے کی آواز نے منجملہ و اسباب ماتم کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالب ہم نے کعبہ ہے وہ ہے وہ بھی اقرار کیا
Habib Jalib
1 likes
پھروں دل سے آ رہی ہے صدا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل شاید ملے غزل کا پتا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل کب سے نہیں ہوا ہے کوئی شعر کام کا یہ شعر کی نہیں ہے فضا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل حقیقت بام و در حقیقت لوگ حقیقت رسوائیوں کے زخم ہیں سب کے سب عزیز جدا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل ا سے پھول کے بغیر بے حد جی ادا سے ہے مجھ کو بھی ساتھ لے کے صبا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل دنیا تو چاہتی ہے یوںہی فاصلے رہیں دنیا کے مشوروں پہ لگ جا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل بے نور و نبھے گی ہے ی ہاں کی صدا ساز تھا ا سے سکوت ہے وہ ہے وہ بھی مزہ ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل جالب پکارتی ہیں حقیقت شعلہ نوائیاں یہ سرد رت یہ سرد ہوا ا سے گلی ہے وہ ہے وہ چل
Habib Jalib
2 likes
آگ ہے پھیلی ہوئی کالی گھٹاؤں کی جگہ بد دعائیں ہیں لبوں پر اب دعاؤں کی جگہ انتخاب اہل گلشن پر بے حد روتا ہے دل دیکھ کر زاغ و زغن کو خوش نواوں کی جگہ کچھ بھی ہوتا پر لگ ہوتے پارہ پارہ جسم و جاں راہزن ہوتے ا گر ان رہنماؤں کی جگہ لٹ گئی ا سے دور ہے وہ ہے وہ اہل کی رکھ بک رہے ہیں اب صحافی بے سواوں کی جگہ کچھ تو آتا ہم کو بھی جاں سے گزرنے کا مزہ غیر ہوتے کاش جالب آشناؤں کی جگہ
Habib Jalib
1 likes
کہی آہ بن کے لب پر ترا نام آ لگ جائے تجھے بےوفا ک ہوں ہے وہ ہے وہ حقیقت مقام آ لگ جائے ذرا زلف کو سنبھالو میرا دل دھڑک رہا ہے کوئی اور طائر دل تہ دام آ لگ جائے جسے سن کے ٹوٹ جائے میرا آرزو بھرا دل تری صورت آشنا سے مجھ کو حقیقت پیام آ لگ جائے حقیقت جو منزلوں پہ لا کر کسی ہم سفر کو لوٹیں انہی رہزنوں ہے وہ ہے وہ تیرا کہی نام آ لگ جائے اسی فکر ہے وہ ہے وہ ہیں غلطاں یہ وشق زر کے بندے جو تمام زندگی ہے حقیقت نصرت آ لگ جائے یہ مہ و نجوم ہن سے لیں مری آنسوؤں پہ جالب میرا ماہتاب جب تک لب بام آ لگ جائے
Habib Jalib
0 likes
کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں بیتے ہوئے دن رات لگ یاد آئیں تو سوئیں چہرے جو کبھی ہم کو دکھائی نہیں دیں گے آ آ کے تصور ہے وہ ہے وہ لگ تڑپائیں تو سوئیں برسات کی رت کے حقیقت طرب ریز مناظر سینے ہے وہ ہے وہ لگ اک آگ سی بھڑکائیں تو سوئیں صبحوں کے مقدر کو جگاتے ہوئے مکھڑے آنچل جو نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ لہرائیں تو سوئیں محسو سے یہ ہوتا ہے ابھی جاگ رہے ہیں لاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں
Habib Jalib
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Habib Jalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Habib Jalib's ghazal.







