tu qarib aae to qurbat ka yuun izhar karun aaina samne rakh kar tira didar karun samne tere karun haar ka apni elaan aur akele men tiri jiit se inkar karun pahle sochun use phir us ki banaun tasvir aur phir us men hi paida dar-o-divar karun mire qabze men na mitti hai na badal na hava phir bhi chahat hai ki har shakh samar-bar karun subh hote hi ubhar aati hai salim ho kar vahi divar jise roz main mismar karun tu qarib aae to qurbat ka yun izhaar karun aaina samne rakh kar tera didar karun samne tere karun haar ka apni elan aur akele mein teri jit se inkar karun pahle sochun use phir us ki banaun taswir aur phir us mein hi paida dar-o-diwar karun mere qabze mein na mitti hai na baadal na hawa phir bhi chahat hai ki har shakh samar-bar karun subh hote hi ubhar aati hai salim ho kar wahi diwar jise roz main mismar karun
Related Ghazal
گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے ا گر کوئی تیری رفتار ماپنے نکلے دماغ کیا ہے جہانوں کی روشنی لگ جائے تو ہاتھ اٹھا نہیں سکتا تو میرا ہاتھ پکڑ تجھے دعا نہیں لگتی تو شاعری لگ جائے پتا کروں گا اندھیرے ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملتا ہے اور ا سے عمل ہے وہ ہے وہ مجھے چاہے آگ بھی لگ جائے ہمارے ہاتھ ہی جلتے رہیں گے سگریٹ سے کبھی تمہارے بھی کپڑوں پہ استری لگ جائے ہر ایک بات کا زار نکالنے والوں تمہارے نام کے آگے لگ مطلبی لگ جائے کلا سے روم ہوں یا حشر کیسے ممکن ہے ہمارے ہوتے تیری غیر حاضری لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بی سے بر سے سے تیری گرفت ہے وہ ہے وہ ہوں کے اتنے دیر ہے وہ ہے وہ تو کوئی آئی جی لگ جائے
Tehzeeb Hafi
124 likes
کبھی کسی کو مکمل ج ہاں نہیں ملتا کہی زمین کہی آ سماں نہیں ملتا تمام شہر ہے وہ ہے وہ ایسا نہیں خلوص لگ ہوں ج ہاں امید ہوں ا سے کی و ہاں نہیں ملتا ک ہاں چراغ جلائیں ک ہاں گلاب رکھیں چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکان نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ ہے وہ ہے وہ گم ہیں زبان ملی ہے م گر ہم زبان نہیں ملتا چراغ جلتے ہی بینائی بجھنے لگتی ہے خود اپنے گھر ہے وہ ہے وہ ہی گھر کا نشان نہیں ملتا
Nida Fazli
37 likes
हर एक बात पे कहते हो तुम कि तू क्या है तुम्हीं कहो कि ये अंदाज़-ए-गुफ़्तुगू क्या है न शो'ले में ये करिश्मा न बर्क़ में ये अदा कोई बताओ कि वो शोख़-ए-तुंद-ख़ू क्या है ये रश्क है कि वो होता है हम-सुख़न तुम से वगर्ना ख़ौफ़-ए-बद-आमोज़ी-ए-अदू क्या है चिपक रहा है बदन पर लहू से पैराहन हमारे जैब को अब हाजत-ए-रफ़ू क्या है जला है जिस्म जहाँ दिल भी जल गया होगा कुरेदते हो जो अब राख जुस्तुजू क्या है रगों में दौड़ते फिरने के हम नहीं क़ाइल जब आँख ही से न टपका तो फिर लहू क्या है वो चीज़ जिस के लिए हम को हो बहिश्त अज़ीज़ सिवाए बादा-ए-गुलफ़ाम-ए-मुश्क-बू क्या है पि यूँँ शराब अगर ख़ुम भी देख लूँ दो-चार ये शीशा ओ क़दह ओ कूज़ा ओ सुबू क्या है रही न ताक़त-ए-गुफ़्तार और अगर हो भी तो किस उमीद पे कहिए कि आरज़ू क्या है हुआ है शह का मुसाहिब फिरे है इतराता वगर्ना शहर में 'ग़ालिब' की आबरू क्या है
Mirza Ghalib
32 likes
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہوں جائے چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہوں جائے کبھی تو آ سماں سے چاند اترے جام ہوں جائے تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہوں جائے غضب حالات تھے یوں دل کا سودا ہوں گیا تو آخر محبت کی حویلی ج سے طرح نیلام ہوں جائے سمندر کے سفر ہے وہ ہے وہ ا سے طرح آواز دے ہم کو ہوائیں تیز ہوں اور کشتیوں ہے وہ ہے وہ شام ہوں جائے مجھے معلوم ہے ا سے کا ہری پھروں ک ہاں ہوگا پرندہ آ سماں چھونے ہے وہ ہے وہ جب ناکام ہوں جائے اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو لگ جانے ک سے گلی ہے وہ ہے وہ زندگی کی شام ہوں جائے
Bashir Badr
22 likes
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
More from Nida Fazli
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
جانے والوں سے رابطہ رکھنا دوستو رسم فاتحہ رکھنا گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ رونے کی کچھ جگہ رکھنا مسجدیں ہیں خارے کے لیے اپنے گھر ہے وہ ہے وہ کہی خدا رکھنا جسم ہے وہ ہے وہ پھیلنے لگا ہے شہر اپنی تنہائیاں بچا رکھنا ملنا جلنا ج ہاں ضروری ہے ملنے جلنے کا حوصلہ رکھنا عمر کرنے کو ہے پچا سے کو پار کون ہے ک سے جگہ پتا رکھنا
Nida Fazli
1 likes
چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض ہے وہ ہے وہ اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے دی کا ساتھ چھوٹتا ک ہاں ہے اپنوں کا جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نظر نہیں آتے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار ج ہاں ہے ضروری ہر ایک چیز ی ہاں جن درختوں ہے وہ ہے وہ پھل نہیں آتے حقیقت جلانے کے کام آتے ہیں
Nida Fazli
0 likes
ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی کشتی ہوں مجھہی ہے وہ ہے وہ ہے سمندر میرا ک سے سے پوچھوں کہ ک ہاں گم ہوں کئی برسوں سے ہر جگہ ڈھونڈتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا ایک سے ہوں گئے موسموں کے چہرے سارے مری آنکھوں سے کہی کھو گیا تو منظر میرا مدتیں بیت گئیں خواب سہانا دیکھے جاگتا رہتا ہے ہر نیند ہے وہ ہے وہ بستر میرا آئی لگ دیکھ کے نکلا تھا ہے وہ ہے وہ گھر سے باہر آج تک ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہری ہے پتھر میرا
Nida Fazli
1 likes
تو قریب آئی تو قربت کا یوں اظہار کروں آئی لگ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروں سامنے تری کروں ہار کا اپنی اعلان اور اکیلے ہے وہ ہے وہ تری جیت سے انکار کروں پہلے سوچوں اسے پھروں ا سے کی بناؤں تصویر اور پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ ہی پیدا در و دیوار کروں مری قبضے ہے وہ ہے وہ لگ مٹی ہے لگ بادل لگ ہوا پھروں بھی چاہت ہے کہ ہر شاخ ثمر بار کروں صبح ہوتے ہی ابھر آتی ہے سالم ہوں کر وہی دیوار جسے روز ہے وہ ہے وہ مسمار کروں
Nida Fazli
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







