ghazalKuch Alfaaz

چاہتیں موسمی پرندے ہیں رت بدلتے ہی لوٹ جاتے ہیں گھونسلے بن کے ٹوٹ جاتے ہیں داغ شاخوں پہ چہچہاتے ہیں آنے والے بیاض ہے وہ ہے وہ اپنی جانے والوں کے نام لکھتے ہیں سب ہی اوروں کے خالی کمروں کو اپنی اپنی طرح سجاتے ہیں موت اک واہمہ ہے دی کا ساتھ چھوٹتا ک ہاں ہے اپنوں کا جو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر نظر نہیں آتے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ جگمگاتے ہیں یہ مصور عجیب ہوتے ہیں آپ اپنے حبیب ہوتے ہیں دوسروں کی شباہتیں لے کر اپنی تصویر ہی بناتے ہیں یوں ہی چلتا ہے کاروبار ج ہاں ہے ضروری ہر ایک چیز ی ہاں جن درختوں ہے وہ ہے وہ پھل نہیں آتے حقیقت جلانے کے کام آتے ہیں

Nida Fazli0 Likes

Related Ghazal

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

More from Nida Fazli

گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو

Nida Fazli

1 likes

تو قریب آئی تو قربت کا یوں اظہار کروں آئی لگ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروں سامنے تری کروں ہار کا اپنی اعلان اور اکیلے ہے وہ ہے وہ تری جیت سے انکار کروں پہلے سوچوں اسے پھروں ا سے کی بناؤں تصویر اور پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ ہی پیدا در و دیوار کروں مری قبضے ہے وہ ہے وہ لگ مٹی ہے لگ بادل لگ ہوا پھروں بھی چاہت ہے کہ ہر شاخ ثمر بار کروں صبح ہوتے ہی ابھر آتی ہے سالم ہوں کر وہی دیوار جسے روز ہے وہ ہے وہ مسمار کروں

Nida Fazli

0 likes

جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے ا سے کے چاروں طرف حقیقت چھوؤں گا بدن پاؤں بھاری لگے حقیقت سسرال سے آئی ہے مائیکے اسے جتنا دیکھو حقیقت پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں م گر حقیقت سب سیکڑوں ہے وہ ہے وہ ہزاری لگے چلو ا سے طرح سے سے جائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر گوئی کا فن اسے سوچنا دین داری لگے

Nida Fazli

1 likes

مری تیری دوریاں ہیں اب عبادت کے خلاف ہر طرف ہے فوج آرائی محبت کے خلاف حرف سرمد خون دارا کے علاوہ شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہے جو سر اٹھائے بادشاہت کے خلاف پہلے جیسا ہی دکھی ہے آج بھی بوڑھا کبیر کوئی آیت کا مخالف کوئی مورت کے خلاف ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چپ ہوں تو بھی چپ ہے بات یہ سچ ہے م گر ہوں رہا ہے جو بھی حقیقت تو ہے طبیعت کے خلاف مدتوں کے بعد دیکھا تھا اسے اچھا لگا دیر تک ہنستا رہا حقیقت اپنی عادت کے خلاف

Nida Fazli

0 likes

یقین چاند پہ سورج ہے وہ ہے وہ اعتبار بھی رکھ م گر نگاہ ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا انتظار بھی رکھ خدا کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ مت سونپ سارے کاموں کو بدلتے سمے پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانی اڑائے نصیب صحیح ذہن ہے وہ ہے وہ بہار بھی رکھ گھروں کے طاقوں ہے وہ ہے وہ گل دستے یوں نہیں سجتے ج ہاں ہیں پھول وہیں آ سے پا سے بچھاؤ بھی رکھ پہاڑ گونجیں ن گرا گائے یہ ضروری ہے سفر کہی کا ہوں دل ہے وہ ہے وہ کسی کا پیار بھی رکھ

Nida Fazli

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nida Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.