ghazalKuch Alfaaz

یقین چاند پہ سورج ہے وہ ہے وہ اعتبار بھی رکھ م گر نگاہ ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا انتظار بھی رکھ خدا کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ مت سونپ سارے کاموں کو بدلتے سمے پہ کچھ اپنا اختیار بھی رکھ یہ ہی لہو ہے شہادت یہ ہی لہو پانی اڑائے نصیب صحیح ذہن ہے وہ ہے وہ بہار بھی رکھ گھروں کے طاقوں ہے وہ ہے وہ گل دستے یوں نہیں سجتے ج ہاں ہیں پھول وہیں آ سے پا سے بچھاؤ بھی رکھ پہاڑ گونجیں ن گرا گائے یہ ضروری ہے سفر کہی کا ہوں دل ہے وہ ہے وہ کسی کا پیار بھی رکھ

Nida Fazli1 Likes

Related Ghazal

زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی

Ali Zaryoun

102 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

Anwar Shaoor

95 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

More from Nida Fazli

راکش سے تھا لگ خدا تھا پہلے آدمی کتنا بڑا تھا پہلے آ سماں کھیت سمندر سب یشودا خون کاغذ پہ اگا تھا پہلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مقتول جو قاتل لگ بنا ہاتھ میرا بھی اٹھا تھا پہلے اب کسی سے بھی شکایت لگ رہی جانے ک سے ک سے سے گلہ تھا پہلے شہر تو بعد ہے وہ ہے وہ ویران ہوا میرا گھر خاک ہوا تھا پہلے

Nida Fazli

2 likes

گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو

Nida Fazli

1 likes

ہر اک رستہ اندھیروں ہے وہ ہے وہ گھرا ہے محبت اک ضروری حادثہ ہے گرجتی آندھیاں ضائع ہوئی ہیں زمیں پہ ٹوٹ کے آنسو گرا ہے نکل آئی کدھر منزل کی دھن ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہاں تو راستہ ہی راستہ ہے دعا کے ہاتھ پتھر ہوں گئے ہیں خدا ہر ذہن ہے وہ ہے وہ ٹوٹا پڑا ہے تمہارا غضب شاید الگ ہوں مجھے تو علم نے بھٹکا دیا ہے

Nida Fazli

2 likes

کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہوں گیا تو پھروں ہوا یوں حقیقت کسی کی ہے وہ ہے وہ کسی کا ہوں گیا تو عشق کر کے دیکھیے اپنا تو یہ ہے غضب گھر محلہ شہر سب پہلے سے اچھا ہوں گیا تو قبر ہے وہ ہے وہ حق گوئی باہر منقبت قوالیاں آدمی کا آدمی ہونا تماشا ہوں گیا تو حقیقت ہی مورت حقیقت ہی صورت حقیقت ہی قدرت کی طرح ا سے کو ج سے نے جیسا سوچا حقیقت بھی ویسا ہوں گیا تو

Nida Fazli

3 likes

انسان ہے وہ ہے وہ ہیوان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی اللہ نگہبان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی خون خوار درندوں کے فقط نام ا پیش ہیں ہر شہر بیابان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی ہندو بھی سکون سے ہے مسلماناں بھی سکون سے انسان پریشان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی رحمان کی رحمت ہوں کہ بھگوان کی مورت ہر کھیل کا میدان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی اٹھتا ہے دل و جاں سے دھواں دونوں طرف ہی یہ میر کا دیوان ی ہاں بھی ہے و ہاں بھی

Nida Fazli

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nida Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.