ghazalKuch Alfaaz

کچھ دنوں تو شہر سارا اجنبی سا ہوں گیا تو پھروں ہوا یوں حقیقت کسی کی ہے وہ ہے وہ کسی کا ہوں گیا تو عشق کر کے دیکھیے اپنا تو یہ ہے غضب گھر محلہ شہر سب پہلے سے اچھا ہوں گیا تو قبر ہے وہ ہے وہ حق گوئی باہر منقبت قوالیاں آدمی کا آدمی ہونا تماشا ہوں گیا تو حقیقت ہی مورت حقیقت ہی صورت حقیقت ہی قدرت کی طرح ا سے کو ج سے نے جیسا سوچا حقیقت بھی ویسا ہوں گیا تو

Nida Fazli3 Likes

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

Rahat Indori

102 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

More from Nida Fazli

دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی

Nida Fazli

0 likes

گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو

Nida Fazli

1 likes

آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی صحیح جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی صحیح ہم ک ہاں کے دیوتا ہیں بےوفا حقیقت ہیں تو کیا گھر ہے وہ ہے وہ کوئی گھر کی ظفر ہے چلو یوں ہی صحیح حقیقت نہیں تو کوئی تو ہوگا کہی ا سے کی طرح جسم ہے وہ ہے وہ جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی صحیح میلے ہوں جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح دوستی ہر دن کی محنت ہے چلو یوں ہی صحیح بھول تھی اپنی فرشتہ آدمی ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنا آدمی ہے وہ ہے وہ آدمیت ہے چلو یوں ہی صحیح جیسی ہونی چاہیے تھی ویسی تو دنیا نہیں دنیا داری بھی ضرورت ہے چلو یوں ہی صحیح

Nida Fazli

4 likes

تو قریب آئی تو قربت کا یوں اظہار کروں آئی لگ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروں سامنے تری کروں ہار کا اپنی اعلان اور اکیلے ہے وہ ہے وہ تری جیت سے انکار کروں پہلے سوچوں اسے پھروں ا سے کی بناؤں تصویر اور پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ ہی پیدا در و دیوار کروں مری قبضے ہے وہ ہے وہ لگ مٹی ہے لگ بادل لگ ہوا پھروں بھی چاہت ہے کہ ہر شاخ ثمر بار کروں صبح ہوتے ہی ابھر آتی ہے سالم ہوں کر وہی دیوار جسے روز ہے وہ ہے وہ مسمار کروں

Nida Fazli

0 likes

جانے والوں سے رابطہ رکھنا دوستو رسم فاتحہ رکھنا گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ رونے کی کچھ جگہ رکھنا مسجدیں ہیں خارے کے لیے اپنے گھر ہے وہ ہے وہ کہی خدا رکھنا جسم ہے وہ ہے وہ پھیلنے لگا ہے شہر اپنی تنہائیاں بچا رکھنا ملنا جلنا ج ہاں ضروری ہے ملنے جلنے کا حوصلہ رکھنا عمر کرنے کو ہے پچا سے کو پار کون ہے ک سے جگہ پتا رکھنا

Nida Fazli

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nida Fazli.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.