ghazalKuch Alfaaz

ان کو خلا ہے وہ ہے وہ کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجا لگ چاہیے حقیقت کام رہ کے کرنا پڑا شہر ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجنوں کو ج سے کے واسطے ویرا لگ چاہیے ا سے زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اترانا چاہیے تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی اے بیوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے ہے ہجر تو کباب لگ خانے سے کیا اصول گر عشق ہے تو کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر جانا چاہیے دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن ا گر ملے دھوکہ حسین سا تو اسے خا لگ چاہیے بیتے دنوں کی کوئی نشانی تو ساتھ ہوں جان حیا تمہیں ذرا شرمانا چاہیے ا سے شاعری ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں چار چھے کے لیے دلدار چاہیے کوئی دیوا لگ چاہیے

Ameer Imam0 Likes

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Ameer Imam

ان کو خلا ہے وہ ہے وہ کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجا لگ چاہیے حقیقت کام رہ کے کرنا پڑا شہر ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجنوں کو ج سے کے واسطے ویرا لگ چاہیے ا سے زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اترانا چاہیے تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی اے بیوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے ہے ہجر تو کباب لگ خانے سے کیا اصول گر عشق ہے تو کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر جانا چاہیے دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن ا گر ملے دھوکہ حسین سا تو اسے خا لگ چاہیے بیتے دنوں کی کوئی نشانی تو ساتھ ہوں جان حیا تمہیں ذرا شرمانا چاہیے ا سے شاعری ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں چار چھے کے لیے دلدار چاہیے کوئی دیوا لگ چاہیے

Ameer Imam

6 likes

کہ چنو کوئی مسافر وطن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی ہوئی جو شام تو پھروں سے تھکن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی لگ آبشار لگ صحرا لگا سکے قیمت ہم اپنی پیا سے کو لے کر دہن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی سفر طویل بے حد تھا کسی کی آنکھوں تک تو ا سے کے بعد ہم اپنے بدن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کبھی گئے تھے ہواؤں کا سامنا کرنے سبھی چراغ اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کسی طرح تو فضاؤں کی خموشی ٹوٹے تو پھروں سے شور سلاسل چلن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی امیر امام بتاؤ یہ ماجرا کیا ہے تمہارے شعر اسی بانکپن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی

Ameer Imam

2 likes

یوں مری ہونے کو مجھ پر آشکار ا سے نے کیا مجھ ہے وہ ہے وہ پوشیدہ کسی دریا کو پار ا سے نے کیا پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناو پر کاغذ کی پھروں مجھ کو سوار ا سے نے کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا اک آواز مجھ کو خموشی سے توڑ کر کرچیوں کو دیر تک مری شمار ا سے نے کیا دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیا تو رات آئی تو مری بستر کو دار ا سے نے کیا ج سے کو ا سے نے روشنی سمجھا تھا مری دھوپ تھی شام ہونے کا مری پھروں انتظار ا سے نے کیا دیر تک بنتا رہا آنکھوں کے کرگھے پر مجھے بُن گیا تو جب ہے وہ ہے وہ تو مجھ کو تار تار ا سے نے کیا

Ameer Imam

1 likes

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں کے سفر سے پلٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جمع کرتا ہوں شب کے سیاہی قطروں کو ب سمے صبح پھروں ان کو پلٹ کے سوتا ہوں تلاش دھوپ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں سارا دن خود کو تمام رات ستاروں ہے وہ ہے وہ بٹ کے سوتا ہوں ک ہاں سکون کہ شب و روز گھومنا ا سے کا ذرا زمین کے محور سے ہٹ کے سوتا ہوں تری بدن کی خلاوں ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگ جاگ کے راتیں گزارنے والا اک ایسی رات بھی آتی ہے ڈٹ کے سوتا ہوں

Ameer Imam

4 likes

روداد جاں کہی جو ذرا دم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دل کے راستے ہے وہ ہے وہ کئی خم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لبیک پہلے ہم نے کہا تھا رسول حسن ہوں کارزار عشق تو پرچم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی اک ایسا زخم جو بھرنا لگ ہوں کبھی زبان ہر ایک زخم کا مرہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ ج ہاں سراب ملے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں آئی جو رات قطرہ شبنم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں چنو اور لوگ بھی ہوں گے جہان ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بات اور ہے کہ بے حد کم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب ساتھ تھے تو مل کے بھی ملنا لگ ہوں سکا جب سے بچھڑ گئے ہوں تو پےہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خود پہ بے حد پیار آ گیا تو ا سے کی طرف کھڑے ہوئے جب ہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو عمر بھر کا ساتھ نبھاتا لگ مل سکا ویسے تو زندگی ہے وہ ہے وہ بے حد غم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ

Ameer Imam

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Imam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Imam's ghazal.