روداد جاں کہی جو ذرا دم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دل کے راستے ہے وہ ہے وہ کئی خم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لبیک پہلے ہم نے کہا تھا رسول حسن ہوں کارزار عشق تو پرچم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی اک ایسا زخم جو بھرنا لگ ہوں کبھی زبان ہر ایک زخم کا مرہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ ج ہاں سراب ملے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں آئی جو رات قطرہ شبنم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں چنو اور لوگ بھی ہوں گے جہان ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بات اور ہے کہ بے حد کم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب ساتھ تھے تو مل کے بھی ملنا لگ ہوں سکا جب سے بچھڑ گئے ہوں تو پےہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خود پہ بے حد پیار آ گیا تو ا سے کی طرف کھڑے ہوئے جب ہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو عمر بھر کا ساتھ نبھاتا لگ مل سکا ویسے تو زندگی ہے وہ ہے وہ بے حد غم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
More from Ameer Imam
کہ چنو کوئی مسافر وطن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی ہوئی جو شام تو پھروں سے تھکن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی لگ آبشار لگ صحرا لگا سکے قیمت ہم اپنی پیا سے کو لے کر دہن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی سفر طویل بے حد تھا کسی کی آنکھوں تک تو ا سے کے بعد ہم اپنے بدن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کبھی گئے تھے ہواؤں کا سامنا کرنے سبھی چراغ اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کسی طرح تو فضاؤں کی خموشی ٹوٹے تو پھروں سے شور سلاسل چلن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی امیر امام بتاؤ یہ ماجرا کیا ہے تمہارے شعر اسی بانکپن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی
Ameer Imam
2 likes
ان کو خلا ہے وہ ہے وہ کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجا لگ چاہیے حقیقت کام رہ کے کرنا پڑا شہر ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجنوں کو ج سے کے واسطے ویرا لگ چاہیے ا سے زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اترانا چاہیے تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی اے بیوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے ہے ہجر تو کباب لگ خانے سے کیا اصول گر عشق ہے تو کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر جانا چاہیے دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن ا گر ملے دھوکہ حسین سا تو اسے خا لگ چاہیے بیتے دنوں کی کوئی نشانی تو ساتھ ہوں جان حیا تمہیں ذرا شرمانا چاہیے ا سے شاعری ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں چار چھے کے لیے دلدار چاہیے کوئی دیوا لگ چاہیے
Ameer Imam
6 likes
یوں مری ہونے کو مجھ پر آشکار ا سے نے کیا مجھ ہے وہ ہے وہ پوشیدہ کسی دریا کو پار ا سے نے کیا پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناو پر کاغذ کی پھروں مجھ کو سوار ا سے نے کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا اک آواز مجھ کو خموشی سے توڑ کر کرچیوں کو دیر تک مری شمار ا سے نے کیا دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیا تو رات آئی تو مری بستر کو دار ا سے نے کیا ج سے کو ا سے نے روشنی سمجھا تھا مری دھوپ تھی شام ہونے کا مری پھروں انتظار ا سے نے کیا دیر تک بنتا رہا آنکھوں کے کرگھے پر مجھے بُن گیا تو جب ہے وہ ہے وہ تو مجھ کو تار تار ا سے نے کیا
Ameer Imam
1 likes
ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں کے سفر سے پلٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جمع کرتا ہوں شب کے سیاہی قطروں کو ب سمے صبح پھروں ان کو پلٹ کے سوتا ہوں تلاش دھوپ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں سارا دن خود کو تمام رات ستاروں ہے وہ ہے وہ بٹ کے سوتا ہوں ک ہاں سکون کہ شب و روز گھومنا ا سے کا ذرا زمین کے محور سے ہٹ کے سوتا ہوں تری بدن کی خلاوں ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگ جاگ کے راتیں گزارنے والا اک ایسی رات بھی آتی ہے ڈٹ کے سوتا ہوں
Ameer Imam
4 likes
ہے ایک لاش کی صورت پڑی ہوئی دنیا صلیب سمے کے اوپر جڑی ہوئی دنیا ہم ایسے لوگ ہی خوراک تھے صدا ا سے کی ہمارے خون کو پی کر بڑی ہوئی دنیا تمام عمر بھی دوڑو لگ ہاتھ آوےگی عشق دل عجیب اجازت ہے یہ ساکت کھڑی ہوئی دنیا ہر ایک بے وجہ ہے پیچھے پڑا ہوا ا سے کے ہر ایک بے وجہ کے پیچھے پڑی ہوئی دنیا جدید شعر کی صورت جدید شاعر کے جدید ہونے کی ضد پر اڑی ہوئی دنیا حسین لڑکیاں خوشبوئیں چاندنی راتیں اور ان کے بعد بھی ایسی سڑی ہوئی دنیا امیر امام نے کوڑے ہے وہ ہے وہ پھینک دی کب کی جسے طلب ہوں اٹھا لے پڑی ہوئی دنیا
Ameer Imam
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameer Imam.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameer Imam's ghazal.







