وہ چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایا ہے بہت عزیز ہمیں ہے مگر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آسماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے کہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے اس اجنبی کے اندھیرے میں کون آیا ہے مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بہت ستایا ہے تمام عمر مرا دل اسی دھوئیں میں گھٹا وہ اک چراغ تھا میں نے اسے بجھایا ہے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے
Umair Najmi
81 likes
بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے
Mehshar Afridi
73 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
More from Bashir Badr
مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا آگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا پی مری یار تجھے اپنی قسم دیتا ہوں بھول جا شکوہ گلہ ہاتھ ملا جام اٹھا ہاتھ ہے وہ ہے وہ چاند ج ہاں آیا مقدر چمکا سب بدل جائےگا قسمت کا لکھا جام اٹھا ایک پل بھی کبھی ہوں جاتا ہے صدیوں جیسا دیر کیا کرنا ی ہاں ہاتھ بڑھا جام اٹھا پیار ہی پیار ہے سب لوگ برابر ہیں ی ہاں مختلف ہے وہ ہے وہ کوئی چھوٹا لگ بڑا جام اٹھا
Bashir Badr
1 likes
فلک سے چاند ستاروں سے جام لینا ہے مجھے سحر سے نئی ایک شام لینا ہے کسے خبر کہ فرشتے غزل سمجھتے ہیں خدا کے سامنے کافر کا نام لینا ہے معاملہ ہے ترا بدترین دشمن سے مری عزیز محبت سے کام لینا ہے مہکتی زلفوں سے خوشبو چمکتی ہوئی آنکھ سے دھوپ شبوں سے جام سحر کا سلام بخیر لینا ہے تمہاری چال کی آہستگی کے لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن سے دل کو مسلنے کا کام لینا ہے نہیں ہے وہ ہے وہ میر کے در پر کبھی نہیں جاتا مجھے خدا سے غزل کا چھوؤں گا لینا ہے بڑے سلیقے سے نوٹوں ہے وہ ہے وہ ا سے کو تلوہ کر امیر شہر سے اب انتقام لینا ہے
Bashir Badr
1 likes
چمک رہی ہے پروں ہے وہ ہے وہ اڑان کی خوشبو بلا رہی ہے بہت آسمان کی خوشبو بھٹک رہی ہے پرانی دلائیاں اوڑھے حویلیوں ہے وہ ہے وہ مری خاندان کی خوشبو سنا کے کوئی کہانی ہمیں سلاتی تھی دعاؤں جیسی بڑے پان دان کی خوشبو دبا تھا پھول کوئی میز پوش کے نیچے گرز رہی تھی بہت پیچوان کی خوشبو عجب نظیر و تھا سوکھے سنہرے بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسیوں کی چمک زرد لان کی خوشبو حقیقت عطر دان سا لہجہ مری بزرگوں کا رچی بسی ہوئی اردو زبان کی خوشبو غزل کی شاخ پہ اک پھول کھلنے والا ہے بدن سے آنے لگی زعفران کی خوشبو عمارتوں کی بلندی پہ کوئی موسم کیا کہاں سے آ گئی کچے مکان کی خوشبو گلوں پہ لکھتی ہوئی لا الہ الا اللہ پہاڑیوں سے اترتی اذان کی خوشبو
Bashir Badr
6 likes
کبھی یوں بھی آ مری آنکھ ہے وہ ہے وہ کہ مری نظر کو خبر لگ ہوں مجھے ایک رات نواز دے م گر ا سے کے بعد سحر لگ ہوں حقیقت بڑا رحیم و کریم ہے مجھے یہ صفت بھی عطا کرے تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا ہے وہ ہے وہ اثر لگ ہوں مری بازوؤں ہے وہ ہے وہ تھکی تھکی ابھی محو خواب ہے چاندنی لگ اٹھے ستاروں کی پالکی ابھی آہٹوں کا گزر لگ ہوں یہ غزل کہ چنو ہرن کی آنکھ ہے وہ ہے وہ پچھلی رات کی چاندنی لگ بجھے خرابے کی روشنی کبھی بے چراغ یہ گھر لگ ہوں کبھی دن کی دھوپ ہے وہ ہے وہ جھوم کے کبھی شب کے پھول کو چوم کے یوں ہی ساتھ ساتھ چلیں صدا کبھی ختم اپنا سفر لگ ہوں
Bashir Badr
18 likes
جب تک نگار دشت کا سینا دکھا لگ تھا صحرا ہے وہ ہے وہ کوئی لالا صحرا کھلا لگ تھا دو جھیلیں ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ لہرا کے سو گئیں ا سے سمے مری عمر کا دریا چڑھا لگ تھا جاگی لگ تھیں نسوں ہے وہ ہے وہ تمنا کی ناگنیں ا سے گندمی شراب کو جب تک چکھا لگ تھا ڈھونڈا کروں جہان تحیر ہے وہ ہے وہ عمر بھر حقیقت چلتی پھرتی چھاؤں ہے ہے وہ ہے وہ نے کہا لگ تھا اک بےوفا کے سامنے آنسو بہاتے ہم اتنا ہماری آنکھ کا پانی مرا لگ تھا حقیقت کالے ہونٹ جام سمجھ کر چڑھا گئے حقیقت لو ج سے سے ہے وہ ہے وہ نے وضو تک کیا لگ تھا سب لوگ اپنے اپنے خداؤں کو لائے تھے ایک ہم ایسے تھے کہ ہمارا خدا لگ تھا حقیقت کالی آنکھیں شہر ہے وہ ہے وہ مشہور تھیں بے حد تب ان پہ موتے شیشوں کا چشمہ چڑھا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ صاحب غزل تھا حسینوں کی بزم ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر پر گھنیری بال تھے ماتھا کھلا لگ تھا
Bashir Badr
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







