حقیقت غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے چاند کہتے ہیں کسے خوب سمجھتے ہوں گے اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیری لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمجھتا تھا محبت کی زبان خوشبو ہے پھول سے لوگ اسے خوب سمجھتے ہوں گے دیکھ کر پھول کے اوراق پہ شبنم کچھ لوگ ترا اشکوں بھرا مکتوب سمجھتے ہوں گے بھول کر اپنا زما لگ یہ زمانے والے آج کے پیار کو معیوب سمجھتے ہوں گے
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں
Himanshi babra KATIB
76 likes
کل شب لبا سے ا سے نے جو پہنا گلاب کا خوشبو گلاب کی کہی چرچا گلاب کا دیکھی حسین لوگوں کی اولاد بھی حسین پودھے سے اگتا دیکھا ہے پودا گلاب کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا گلاب توڑنے والوں کے شہر سے اور اس کا کو چاہیے تھا بگیچا گلاب کا سنتے ہوں آج ٹوٹ گیا تو لاڈلے کا دل اب ا سے کے آگے ذکر لگ کرنا گلاب کا
Kushal Dauneria
30 likes
ہم ک ہاں ہیں یہ پتا لو جاناں بھی بات آدھی تو سنبھالو جاناں بھی دل لگایا ہی نہیں تھا جاناں نے دل لگی کی تھی مزہ لو جاناں بھی ہم کو آنکھوں ہے وہ ہے وہ لگ آنچو لیکن خود کو خود پر تو سجا لو جاناں بھی جسم کی نیند ہے وہ ہے وہ سونے والوں روح ہے وہ ہے وہ خواب تو پالو جاناں بھی
Kumar Vishwas
28 likes
لمحہ در لمحہ تری راہ تکا کرتی ہے ایک کھڑکی تری آمد کی دعا کرتی ہے سلوٹیں چیختی رہتی ہیں مری بستر کی کروٹوں ہے وہ ہے وہ ہی مری رات کٹا کرتی ہے سمے تھم جاتا ہے اب رات گزرتی ہی نہیں جانے دیوار گھڑی رات ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے چاند کھڑکی ہے وہ ہے وہ جو آتا تھا نہیں آتا اب تیرگی چاروں طرف رقص کیا کرتی ہے مری کمرے ہے وہ ہے وہ اداسی ہے خوشگوار کی م گر ایک تصویر پرانی سی ہنسا کرتی ہے
Abbas Qamar
27 likes
More from Bashir Badr
مری نظر ہے وہ ہے وہ خاک تری آئینے پہ گرد ہے یہ چاند کتنا زرد ہے یہ رات کتنی سرد ہے کبھی کبھی تو یوں لگا کہ ہم سبھی قید ہستی ہیں تمام شہر ہے وہ ہے وہ لگ کوئی زن لگ کوئی مرد ہے خدا کی نظموں کی کتاب ساری کائنات ہے غزل کے شعر کی طرح ہر ایک فرد فرد ہے حیات آج بھی کنیز ہے حضور جبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو زندگی کو جیت لے حقیقت زندگی کا مرد ہے اسے تبرک حیات کہ کے پلکوں پر رکھوں ا گر مجھے یقین ہوں یہ راستے کی گرد ہے حقیقت جن کے ذکر سے رگوں ہے وہ ہے وہ دوڑتی تھیں بجلیاں انہی کا ہاتھ ہم نے چھو کے دیکھا کتنا سرد ہے
Bashir Badr
2 likes
ख़ून पत्तों पे जमा हो जैसे फूल का रंग हरा हो जैसे बारहा ये हमें महसूस हुआ दर्द सीने का ख़ुदा हो जैसे यूँँ तरस खा के न पूछो अहवाल तीर सीने पे लगा हो जैसे फूल की आँख में शबनम क्यूँँ है सब हमारी ही ख़ता हो जैसे किर्चें चुभती हैं बहुत सीने में आइना टूट गया हो जैसे सब हमें देखने आते हैं मगर नींद आँखों से ख़फ़ा हो जैसे अब चराग़ों की ज़रूरत भी नहीं चाँद इस दिल में छुपा हो जैसे
Bashir Badr
1 likes
اک پری کے ساتھ موجوں پر ٹہلتا رات کو اب بھی یہ قدرت ک ہاں ہے آدمی کی ذات کو جن کا سارا جسم ہوتا ہے ہماری ہی طرح پھول کچھ ایسے بھی کھلتے ہیں ہمیشہ رات کو ایک اک کر کے سبھی کپڑے بدن سے گر چکے صبح پھروں ہم یہ کفن پہنائیں گے جذبات کو پیچھے پیچھے رات تھی تاروں کا اک لشکر لیے ریل کی پٹری پہ سورج چل رہا تھا رات کو لو و خاک و بعد ہے وہ ہے وہ بھی لہر حقیقت آ جائے ہے سرخ کر دیتی ہے دم بھر ہے وہ ہے وہ جو پیلی دھات کو صبح بستر بند ہے ج سے ہے وہ ہے وہ لپٹ جاتے ہیں ہم اک سفر کے بعد پھروں کھلتے ہیں آدھی رات کو سر پہ سورج کے ہمارے پیار کا سایہ رہے مامتا کا جسم مانگے زندگی کی بات کو
Bashir Badr
5 likes
मिरे दिल की राख कुरेद मत इसे मुस्कुरा के हवा न दे ये चराग़ फिर भी चराग़ है कहीं तेरा हाथ जला न दे नए दौर के नए ख़्वाब हैं नए मौसमों के गुलाब हैं ये मोहब्बतों के चराग़ हैं इन्हें नफ़रतों की हवा न दे ज़रा देख चाँद की पत्तियों ने बिखर बिखर के तमाम शब तिरा नाम लिक्खा है रेत पर कोई लहर आ के मिटा न दे मैं उदासियाँ न सजा सकूँ कभी जिस्म-ओ-जाँ के मज़ार पर न दिए जलें मिरी आँख में मुझे इतनी सख़्त सज़ा न दे मिरे साथ चलने के शौक़ में बड़ी धूप सर पे उठाएगा तिरा नाक नक़्शा है मोम का कहीं ग़म की आग घुला न दे मैं ग़ज़ल की शबनमी आँख से ये दुखों के फूल चुना करूँँ मिरी सल्तनत मिरा फ़न रहे मुझे ताज-ओ-तख़्त ख़ुदा न दे
Bashir Badr
7 likes
حقیقت چاندنی کا بدن خوشبوؤں کا سایہ ہے بے حد عزیز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے م گر پرایا ہے اتر بھی آؤ کبھی آ سماں کے زینے سے تمہیں خدا نے ہمارے لیے بنایا ہے ک ہاں سے آئی یہ خوشبو یہ گھر کی خوشبو ہے ا سے اجنبی کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ کون آیا ہے مہک رہی ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاندنی کے پھولوں سے خدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے اسے کسی کی محبت کا اعتبار نہیں اسے زمانے نے شاید بے حد ستایا ہے تمام عمر میرا دل اسی دھوئیں ہے وہ ہے وہ گھٹا حقیقت اک چراغ تھا ہے وہ ہے وہ نے اسے بجھایا ہے
Bashir Badr
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Bashir Badr.
Similar Moods
More moods that pair well with Bashir Badr's ghazal.







