لمحہ در لمحہ تری راہ تکا کرتی ہے ایک کھڑکی تری آمد کی دعا کرتی ہے سلوٹیں چیختی رہتی ہیں مری بستر کی کروٹوں ہے وہ ہے وہ ہی مری رات کٹا کرتی ہے سمے تھم جاتا ہے اب رات گزرتی ہی نہیں جانے دیوار گھڑی رات ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے چاند کھڑکی ہے وہ ہے وہ جو آتا تھا نہیں آتا اب تیرگی چاروں طرف رقص کیا کرتی ہے مری کمرے ہے وہ ہے وہ اداسی ہے خوشگوار کی م گر ایک تصویر پرانی سی ہنسا کرتی ہے
Related Ghazal
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
یہ پیار تیری بھول ہے قبول ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ ہوں تو پھول ہے قبول ہے دغا بھی دوں گا پیار ہے وہ ہے وہ کبھی کبھی کہ یہ میرا اصول ہے قبول ہے تجھے ج ہاں عزیز ہے تو چھوڑ جا مجھے یہ اجازت فضول ہے قبول ہے تو روٹھے گی تو ہے وہ ہے وہ مناؤںگا نہیں جو رول ہے حقیقت رول ہے قبول ہے لپٹ اے شاخے گل م گر یہ سوچ کر میرا بدن ببول ہے قبول ہے یہی ہے گر تری رضا تو بول پھروں قبول ہے قبول ہے قبول ہے
Varun Anand
42 likes
مجھ ہے وہ ہے وہ کتنے راز ہیں بتلاؤں کیا بند ایک مدت سے ہوں کھل جاؤں کیا تاب غم منت خوشامد التجا اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا کروں مر جاؤں کیا تری جلسے ہے وہ ہے وہ تیرا پرچم لیے سیکڑوں لاشیں بھی ہیں گنواؤں کیا کل ی ہاں ہے وہ ہے وہ تھا ج ہاں جاناں آج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہاری ہی طرح اتراوں کیا ایک پتھر ہے حقیقت مری راہ کا گر لگ ٹھکراؤں تو ٹھوکر کھاؤں کیا پھروں جگایا تو نے سوئے شعر کو پھروں وہی لہجہ درازی آؤں کیا
Rahat Indori
56 likes
درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے اب تجھے قتل بھی کر دوں تو سندلی ہے مجھے مسئلہ ایسے کوئی حل تو لگ ہوگا شاید شعر کہنا ہی مری غم کی تلافی ہے مجھے مرثیہ اک نئے احسا سے نے چونکا سا دیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سمجھا تھا کہ ہر سان سے اضافی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا دوائیں نہیں کام آئیںگی جانتا تھا تری آواز ہی شافی ہے مجھے ا سے سے اندازہ لگاؤ کہ ہے وہ ہے وہ ک سے حال ہے وہ ہے وہ ہوں غیر کا دھیان بھی اب وعدہ خلافی ہے مجھے حقیقت کہی سامنے آ جائے تو کیا ہوں جواد یاد ہی ا سے کی ا گر سی لگ شگافی ہے مجھے
Jawwad Sheikh
28 likes
سو رہیں گے کے جاگتے رہیں گے ہم تری خواب دیکھتے رہیں گے تو کہی اور ہی ڈھونڈتا رہےگا ہم کہی اور ہی کھلے رہیں گے راہگیروں نے راہ بدلنی ہے پیڑ اپنی جگہ کھڑے رہیں گے سبھی موسم ہے دسترسی ہے وہ ہے وہ تیری تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے لوٹنا کب ہے تو نے پر تجھ کو عادتن ہی پکارتے رہیں گے تجھ کو پانے ہے وہ ہے وہ مسئلہ یہ ہے تجھ کو کھونے کے رلا رہیں گے تو ادھر دیکھ مجھ سے باتیں کر یار چشمے تو پھوٹتے رہیں گے ایک مدت ہوئی ہے تجھ سے ملے تو تو کہتا تھا رابطے رہیں گے
Tehzeeb Hafi
91 likes
More from Abbas Qamar
مری پرچھائیاں گم ہیں مری پہچان باقی ہے سفر دم توڑنے کو ہے م گر سامان باقی ہے ابھی تو خواہشوں کے درمیان غماسان باقی ہے ابھی ا سے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ذرا سی جان باقی ہے اسے تاری کیوں نے قید کر رکھا ہے برسوں سے مری کمرے ہے وہ ہے وہ ب سے کہنے کو روشن دان باقی ہے تمہارا جھوٹ چہرے سے عیاں ہوں جائےگا اک دن تمہارے دل کے اندر تھا جو حقیقت شیطان باقی ہے گزاری عمر ج سے کی بندگی ہے وہ ہے وہ حقیقت ہے لا حاصل غضب سرمایہ کاری ہے نفع نقصان باقی ہے ابھی زندہ ہے بوڑھا باپ گھر کی زندگی بنکر فقط کمرے جدا ہیں بیچ ہے وہ ہے وہ دالان باقی ہے غزل زندہ ہے اردو کے ادب بردار زندہ ہیں ہماری تربیت ہے وہ ہے وہ اب بھی ہندوستان باقی ہے
Abbas Qamar
12 likes
تیری آغوش ہے وہ ہے وہ سر رکھا سسک کر روئے میرے سپنے میری آنکھوں سے چھلک کر روئے ساری خوشیوں کو سرے آم جھٹک کر روئے ہم بھی بچوں کی طرح پاؤں پٹک کر روئے راستہ صاف تھا منزل بھی بہت دور نہ تھی بیچ رستے ہے وہ ہے وہ مگر پاؤں اٹک کر روئے جس گھڑی قتل ہواؤں نے چراغوں کا کیا میرے ہمراہ جو جگنو تھے ففک کر روئے قیمتی ضد تھی غریبی بھی بھلا کیا کرتی ماں کے جذبات دلارو کو تھپک کر روئے اپنے حالات بیاں کر کے جو روئی دھرتی چاند تارے کسی کونے ہے وہ ہے وہ دبک کر روئے با مشقت بھی مکمل نہ ہوئی اپنی غزل چند نکتے میرے کاغذ سے سرک کر روئے
Abbas Qamar
18 likes
حالت حال سے بیگا لگ بنا رکھا ہے خود کو ماضی کا ن ہاں خا لگ بنا رکھا ہے خوف دوزخ نے ہی ایجاد کیا ہے سجدہ ڈر نے انسان کو دیوا لگ بنا رکھا ہے منبر عشق سے تقریر کی خواہش ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو ا سے واسطے مولانا بنا رکھا ہے ماتم شوق بپا کرتے ہیں ہر شام ی ہاں جسم کو ہم نے اذان خا لگ بنا رکھا ہے سمے رخصت ہے مری چاہنے والوں نے بھی اب سان سے کو سمے کا پیما لگ بنا رکھا ہے جانتے ہیں حقیقت پرندہ ہے نہیں ٹھہرےگا ہم نے ا سے دل کو م گر دا لگ بنا رکھا ہے
Abbas Qamar
8 likes
ج ہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے و ہاں بھی ہم دیا بننے کی کوشش کر رہے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زور تصور بھی گنوانا پڑ گیا تو ہم تصور ہے وہ ہے وہ خدا بننے کی کوشش کر رہے تھے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر آ گرے جب آ سماں سے خواب مری ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پوچھا کیا بننے کی کوشش کر رہے تھے ا نہیں آنکھوں نے بےدر گرا سے بے گھر کر دیا ہے یہ آنسو قہقہہ بننے کی کوشش کر رہے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشواریاں ہے وہ ہے وہ مسکرانے کی طلب تھی ہم اک تصویر سا بننے کی کوشش کر رہے تھے
Abbas Qamar
23 likes
تری خیال سے پھوٹا تھا خواب کہتے ہیں تجھے حیات کا لب لباب کہتے ہیں چنا ہے تو نے مجھے زندگی کے دامن ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے یہ لوگ تیرا انتخاب کہتے ہیں اسی کا نام روانی ہے برسر دریا اسی کو دشت ہے وہ ہے وہ پیاسے شراب کہتے ہیں گناہگار ہے ا سے کے سو ا سے کی محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم ا سے کے حسن کو ا سے کا نقاب کہتے ہیں
Abbas Qamar
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Abbas Qamar.
Similar Moods
More moods that pair well with Abbas Qamar's ghazal.







