حقیقت جو لکھا ہے سب کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی شامل نہیں نصابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی تاثیر ایسے کاٹی ہے ہم نے گھولا اسے شرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مری ہچکیاں بتاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بقایا ہوں کچھ حسابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی غضب ہی کر لیں کیا کچھ نہیں مل رہا کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم اسے یوں ہی مل گئے ہوتے ا سے نے ڈھونڈا نہیں خرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آؤ اور آ کے پھروں بچھڑ جاؤ کچھ اضافہ کروں عذابوں ہے وہ ہے وہ
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Vishal Bagh
سننے ہے وہ ہے وہ آیا ہے میرا چرچا نہیں تھا مجھ کو جتنا لگتا تھا ہے وہ ہے وہ اتنا نہیں تھا اس کا کا کو اچھے لگتے تھے سب چھیل چھبیلے ہم چنو کو ا سے سے کوئی خطرہ نہیں تھا سادہ دل تھے سو ہم اپنے ہی دشمن تھے حقیقت بھی اچھا لگتا تھا جو اچھا نہیں تھا شرمیلے ساجن کی سب بےشرمی دیکھی سب کچھ سوچا کرتا تھا حقیقت کہتا نہیں تھا اچھی صورت کتنی اچھی ہوں سکتی تھی لیکن تب تک ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھا نہیں تھا
Vishal Bagh
12 likes
خبر سن کر حقیقت یہ اترا رہا ہے مجھے ا سے کا بچھوڑا کھا رہا ہے مری صیاد کو کوئی بلا دو مری پنجرے کو توڑا جا رہا ہے نکلنا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے سفر پر م گر یہ جسم آڑے آ رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو یاد بھی کرنا لگ چا ہوں حقیقت آ کر خواب ہے وہ ہے وہ اکسا رہا ہے چلو اس کا کو اذیت سے نکالیں سنا ہے اب بھی حقیقت پچھتا رہا ہے
Vishal Bagh
10 likes
جی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں محبت کے مارے ہوئے دل کے ٹوٹے ہوئے جاں سے ہارے ہوئے جن سے برسوں کی پہچان تھی چھوٹ گئی اجنبی آج سے ہم تمہارے ہوئے ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بھی ہم را سے آئی نہیں ہم وہی ہیں فلک سے اتارے ہوئے ایک دن آئی دنیا لیے اپنے غم ہم بھی بیٹھے تھے دامن پسارے ہوئے دل جو ٹوٹے نہیں خاک ہے وہ ہے وہ مل گئے دل جو ٹوٹے فلک کے ستارے تم ہوئے دوست سارا ہمارے جنوں کو لگ دو ان کی جانب سے بھی کچھ اشارے ہوئے اک نظر کے تقاضے پہ سب نے کہا ہم تمہارے ہوئے ہم تمہارے ہوئے
Vishal Bagh
18 likes
جب حقیقت بولے کہ کوئی پیارا تھا ان کا مری طرف اشارہ تھا ہم نکل آئی جسم سے باہر ا سے نے کچھ ا سے طرح پکارا تھا پھیر دیتا تھا حقیقت نظر اپنی ہر نظر کا یہی اتارا تھا ڈوب جانا ہی ٹھیک تھا میرا مری دونوں طرف کنارہ تھا آخرش بوجھ ہوں گیا تو دیکھو مجھ کو جو جسم جاں سے پیارا تھا
Vishal Bagh
19 likes
مری زیا کی مری پیا کو تمہیں سناؤ نگوڑی آنکھوں یہ چپ کا پتھر پڑا ہے دل پر اسے ہٹاو نگوڑی آنکھوں برستی جاؤ برستی جاؤ برستی جاؤ برستی جاؤ کہ دل سے سب کچھ بہا کے ا سے کی جگہ حرف حکایات نگوڑی آنکھوں اسی کو دیکھو اسی کو دیکھو اسی کو دیکھو اسی کو دیکھو کہ دیکھنے کا ہے کام جاناں کو سو کام آؤ نگوڑی آنکھوں مواں یہ درپن مواں یہ درپن مواں یہ درپن مواں یہ درپن مجھے اسی کی نظر لگی ہے اسے ہٹاو نگوڑی آنکھوں حقیقت اٹھ گیا تو ہے حقیقت چل دیا ہے حقیقت جا رہا ہے چلا لگ جائے اسے مناؤ اسے مناؤ اسے مناؤ نگوڑی آنکھوں
Vishal Bagh
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vishal Bagh.
Similar Moods
More moods that pair well with Vishal Bagh's ghazal.







