خبر سن کر حقیقت یہ اترا رہا ہے مجھے ا سے کا بچھوڑا کھا رہا ہے مری صیاد کو کوئی بلا دو مری پنجرے کو توڑا جا رہا ہے نکلنا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے سفر پر م گر یہ جسم آڑے آ رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو یاد بھی کرنا لگ چا ہوں حقیقت آ کر خواب ہے وہ ہے وہ اکسا رہا ہے چلو اس کا کو اذیت سے نکالیں سنا ہے اب بھی حقیقت پچھتا رہا ہے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
More from Vishal Bagh
سننے ہے وہ ہے وہ آیا ہے میرا چرچا نہیں تھا مجھ کو جتنا لگتا تھا ہے وہ ہے وہ اتنا نہیں تھا اس کا کا کو اچھے لگتے تھے سب چھیل چھبیلے ہم چنو کو ا سے سے کوئی خطرہ نہیں تھا سادہ دل تھے سو ہم اپنے ہی دشمن تھے حقیقت بھی اچھا لگتا تھا جو اچھا نہیں تھا شرمیلے ساجن کی سب بےشرمی دیکھی سب کچھ سوچا کرتا تھا حقیقت کہتا نہیں تھا اچھی صورت کتنی اچھی ہوں سکتی تھی لیکن تب تک ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھا نہیں تھا
Vishal Bagh
12 likes
حقیقت جو لکھا ہے سب کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی شامل نہیں نصابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی تاثیر ایسے کاٹی ہے ہم نے گھولا اسے شرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مری ہچکیاں بتاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بقایا ہوں کچھ حسابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی غضب ہی کر لیں کیا کچھ نہیں مل رہا کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم اسے یوں ہی مل گئے ہوتے ا سے نے ڈھونڈا نہیں خرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آؤ اور آ کے پھروں بچھڑ جاؤ کچھ اضافہ کروں عذابوں ہے وہ ہے وہ
Vishal Bagh
11 likes
مری زیا کی مری پیا کو تمہیں سناؤ نگوڑی آنکھوں یہ چپ کا پتھر پڑا ہے دل پر اسے ہٹاو نگوڑی آنکھوں برستی جاؤ برستی جاؤ برستی جاؤ برستی جاؤ کہ دل سے سب کچھ بہا کے ا سے کی جگہ حرف حکایات نگوڑی آنکھوں اسی کو دیکھو اسی کو دیکھو اسی کو دیکھو اسی کو دیکھو کہ دیکھنے کا ہے کام جاناں کو سو کام آؤ نگوڑی آنکھوں مواں یہ درپن مواں یہ درپن مواں یہ درپن مواں یہ درپن مجھے اسی کی نظر لگی ہے اسے ہٹاو نگوڑی آنکھوں حقیقت اٹھ گیا تو ہے حقیقت چل دیا ہے حقیقت جا رہا ہے چلا لگ جائے اسے مناؤ اسے مناؤ اسے مناؤ نگوڑی آنکھوں
Vishal Bagh
10 likes
جی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں محبت کے مارے ہوئے دل کے ٹوٹے ہوئے جاں سے ہارے ہوئے جن سے برسوں کی پہچان تھی چھوٹ گئی اجنبی آج سے ہم تمہارے ہوئے ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بھی ہم را سے آئی نہیں ہم وہی ہیں فلک سے اتارے ہوئے ایک دن آئی دنیا لیے اپنے غم ہم بھی بیٹھے تھے دامن پسارے ہوئے دل جو ٹوٹے نہیں خاک ہے وہ ہے وہ مل گئے دل جو ٹوٹے فلک کے ستارے تم ہوئے دوست سارا ہمارے جنوں کو لگ دو ان کی جانب سے بھی کچھ اشارے ہوئے اک نظر کے تقاضے پہ سب نے کہا ہم تمہارے ہوئے ہم تمہارے ہوئے
Vishal Bagh
18 likes
اپنی مرضی سے کچھ چنوں گا میں ہر ادا پر نہیں مرونہگا میں وہ اگر ایسے دیکھ لے مجھ کو اس کو اچھا نہیں لگوںگا میں باغ میں دل نہیں لگا اب کے اگلے موسم نہیں کھلوں گا میں اس سے آگے نہیں نکلنا پر اس کے پیچھے نہیں چلوں گا میں کہ گئے تھے وہ یاد رکھیں گے یاد ہی تو نہیں رہوں گا میں
Vishal Bagh
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vishal Bagh.
Similar Moods
More moods that pair well with Vishal Bagh's ghazal.







