اپنی مرضی سے کچھ چنوں گا میں ہر ادا پر نہیں مرونہگا میں وہ اگر ایسے دیکھ لے مجھ کو اس کو اچھا نہیں لگوںگا میں باغ میں دل نہیں لگا اب کے اگلے موسم نہیں کھلوں گا میں اس سے آگے نہیں نکلنا پر اس کے پیچھے نہیں چلوں گا میں کہ گئے تھے وہ یاد رکھیں گے یاد ہی تو نہیں رہوں گا میں
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
More from Vishal Bagh
سننے ہے وہ ہے وہ آیا ہے میرا چرچا نہیں تھا مجھ کو جتنا لگتا تھا ہے وہ ہے وہ اتنا نہیں تھا اس کا کا کو اچھے لگتے تھے سب چھیل چھبیلے ہم چنو کو ا سے سے کوئی خطرہ نہیں تھا سادہ دل تھے سو ہم اپنے ہی دشمن تھے حقیقت بھی اچھا لگتا تھا جو اچھا نہیں تھا شرمیلے ساجن کی سب بےشرمی دیکھی سب کچھ سوچا کرتا تھا حقیقت کہتا نہیں تھا اچھی صورت کتنی اچھی ہوں سکتی تھی لیکن تب تک ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھا نہیں تھا
Vishal Bagh
12 likes
جی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں محبت کے مارے ہوئے دل کے ٹوٹے ہوئے جاں سے ہارے ہوئے جن سے برسوں کی پہچان تھی چھوٹ گئی اجنبی آج سے ہم تمہارے ہوئے ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بھی ہم را سے آئی نہیں ہم وہی ہیں فلک سے اتارے ہوئے ایک دن آئی دنیا لیے اپنے غم ہم بھی بیٹھے تھے دامن پسارے ہوئے دل جو ٹوٹے نہیں خاک ہے وہ ہے وہ مل گئے دل جو ٹوٹے فلک کے ستارے تم ہوئے دوست سارا ہمارے جنوں کو لگ دو ان کی جانب سے بھی کچھ اشارے ہوئے اک نظر کے تقاضے پہ سب نے کہا ہم تمہارے ہوئے ہم تمہارے ہوئے
Vishal Bagh
18 likes
خبر سن کر حقیقت یہ اترا رہا ہے مجھے ا سے کا بچھوڑا کھا رہا ہے مری صیاد کو کوئی بلا دو مری پنجرے کو توڑا جا رہا ہے نکلنا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے سفر پر م گر یہ جسم آڑے آ رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو یاد بھی کرنا لگ چا ہوں حقیقت آ کر خواب ہے وہ ہے وہ اکسا رہا ہے چلو اس کا کو اذیت سے نکالیں سنا ہے اب بھی حقیقت پچھتا رہا ہے
Vishal Bagh
10 likes
حقیقت جو لکھا ہے سب کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی شامل نہیں نصابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی تاثیر ایسے کاٹی ہے ہم نے گھولا اسے شرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مری ہچکیاں بتاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بقایا ہوں کچھ حسابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی غضب ہی کر لیں کیا کچھ نہیں مل رہا کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم اسے یوں ہی مل گئے ہوتے ا سے نے ڈھونڈا نہیں خرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آؤ اور آ کے پھروں بچھڑ جاؤ کچھ اضافہ کروں عذابوں ہے وہ ہے وہ
Vishal Bagh
11 likes
صاف دکھتا ہے تری چہرے پہ عشق ڈالے ہے ڈیرے چہرے پہ اتنی شدت سے دیکھیے مجھ کو نیل پڑ جائیں مری چہرے پہ اتنی آنکھیں نہیں ہے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جتنے چہرے ہیں تری چہرے پہ سولہواں سال لگ گیا تو چنو ا سے نے جب ہاتھ پھیرے چہرے پہ ہم تجھے دیکھ ہی نہیں پائے اتنی نظریں تھی تری چہرے پہ
Vishal Bagh
11 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vishal Bagh.
Similar Moods
More moods that pair well with Vishal Bagh's ghazal.







