صاف دکھتا ہے تری چہرے پہ عشق ڈالے ہے ڈیرے چہرے پہ اتنی شدت سے دیکھیے مجھ کو نیل پڑ جائیں مری چہرے پہ اتنی آنکھیں نہیں ہے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جتنے چہرے ہیں تری چہرے پہ سولہواں سال لگ گیا تو چنو ا سے نے جب ہاتھ پھیرے چہرے پہ ہم تجھے دیکھ ہی نہیں پائے اتنی نظریں تھی تری چہرے پہ
Related Ghazal
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
مفرور پرندوں کو یہ اعلان گیا تو ہے صیاد نشمن کا پتا جان گیا تو ہے زبان جسے دیمک لگی جاتی تھی حقیقت ہے وہ ہے وہ تھا اب جا کے میرا مری طرف دھیان گیا تو ہے شیشے ہے وہ ہے وہ بھلے ا سے نے مری نقل اتاری خوش ہوں کہ مجھے کوئی تو پہچان گیا تو ہے اب بات تیری کن پہ ہے کچھ کر مری مولا اک بے وجہ تری در سے پریشان گیا تو ہے یہ نام و نسب جا کے زمانے کو بتاؤ درویش تو دستک سے ہی پہچان گیا تو ہے
Ahmad Abdullah
50 likes
More from Vishal Bagh
حقیقت جو لکھا ہے سب کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی شامل نہیں نصابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی تاثیر ایسے کاٹی ہے ہم نے گھولا اسے شرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مری ہچکیاں بتاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بقایا ہوں کچھ حسابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو کوئی غضب ہی کر لیں کیا کچھ نہیں مل رہا کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم اسے یوں ہی مل گئے ہوتے ا سے نے ڈھونڈا نہیں خرابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آؤ اور آ کے پھروں بچھڑ جاؤ کچھ اضافہ کروں عذابوں ہے وہ ہے وہ
Vishal Bagh
11 likes
خبر سن کر حقیقت یہ اترا رہا ہے مجھے ا سے کا بچھوڑا کھا رہا ہے مری صیاد کو کوئی بلا دو مری پنجرے کو توڑا جا رہا ہے نکلنا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے سفر پر م گر یہ جسم آڑے آ رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو یاد بھی کرنا لگ چا ہوں حقیقت آ کر خواب ہے وہ ہے وہ اکسا رہا ہے چلو اس کا کو اذیت سے نکالیں سنا ہے اب بھی حقیقت پچھتا رہا ہے
Vishal Bagh
10 likes
جی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں محبت کے مارے ہوئے دل کے ٹوٹے ہوئے جاں سے ہارے ہوئے جن سے برسوں کی پہچان تھی چھوٹ گئی اجنبی آج سے ہم تمہارے ہوئے ا سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بھی ہم را سے آئی نہیں ہم وہی ہیں فلک سے اتارے ہوئے ایک دن آئی دنیا لیے اپنے غم ہم بھی بیٹھے تھے دامن پسارے ہوئے دل جو ٹوٹے نہیں خاک ہے وہ ہے وہ مل گئے دل جو ٹوٹے فلک کے ستارے تم ہوئے دوست سارا ہمارے جنوں کو لگ دو ان کی جانب سے بھی کچھ اشارے ہوئے اک نظر کے تقاضے پہ سب نے کہا ہم تمہارے ہوئے ہم تمہارے ہوئے
Vishal Bagh
18 likes
اپنی مرضی سے کچھ چنوں گا میں ہر ادا پر نہیں مرونہگا میں وہ اگر ایسے دیکھ لے مجھ کو اس کو اچھا نہیں لگوںگا میں باغ میں دل نہیں لگا اب کے اگلے موسم نہیں کھلوں گا میں اس سے آگے نہیں نکلنا پر اس کے پیچھے نہیں چلوں گا میں کہ گئے تھے وہ یاد رکھیں گے یاد ہی تو نہیں رہوں گا میں
Vishal Bagh
16 likes
سننے ہے وہ ہے وہ آیا ہے میرا چرچا نہیں تھا مجھ کو جتنا لگتا تھا ہے وہ ہے وہ اتنا نہیں تھا اس کا کا کو اچھے لگتے تھے سب چھیل چھبیلے ہم چنو کو ا سے سے کوئی خطرہ نہیں تھا سادہ دل تھے سو ہم اپنے ہی دشمن تھے حقیقت بھی اچھا لگتا تھا جو اچھا نہیں تھا شرمیلے ساجن کی سب بےشرمی دیکھی سب کچھ سوچا کرتا تھا حقیقت کہتا نہیں تھا اچھی صورت کتنی اچھی ہوں سکتی تھی لیکن تب تک ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو دیکھا نہیں تھا
Vishal Bagh
12 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vishal Bagh.
Similar Moods
More moods that pair well with Vishal Bagh's ghazal.







