ghazalKuch Alfaaz

حقیقت پا سے کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے مزاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا تو جب ا سے کی بزم ہے وہ ہے وہ دار و رسن کی بات چلی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھٹ سے اٹھ گیا تو اور آگے آ کے بیٹھ گیا تو درخت کاٹ کے جب تھک گیا تو لکڑ ہارا تو اک درخت کے سائے ہے وہ ہے وہ جا کے بیٹھ گیا تو تمہارے در سے ہے وہ ہے وہ کب اٹھنا چاہتا تھا م گر یہ میرا دل ہے کہ مجھ کو اٹھا کے بیٹھ گیا تو جو مری واسطے کرسی لگایا کرتا تھا حقیقت مری کرسی سے کرسی لگا کے بیٹھ گیا تو پھروں ا سے کے بعد کئی لوگ اٹھ کے جانے لگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اٹھ کے جانے کا نسخہ بتا کے بیٹھ گیا تو

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Zubair Ali Tabish

پہلے مفت ہے وہ ہے وہ پیا سے بٹےگی بعد ہے وہ ہے وہ اک اک بوند بکےگی کتنے حسین ہوں ماشا اللہ جاناں پہ محبت خوب جچےگی ظالم ب سے اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملےگی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھروں بھوک لگےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمےگی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک اڑےگی دنیا کو ایسے بھولوںگا دنیا مجھ کو یاد کرے گی

Zubair Ali Tabish

30 likes

بیٹھے بیٹھے اک دم سے چونکاتی ہے یاد تری کب دستک دے کر آتی ہے تتلی کے جیسی ہے مری ہر خواہش ہاتھ لگانے سے پہلے اڑ جاتی ہے مری سجدے راز نہیں رہنے والے ا سے کی چوکھٹ ماتھے کو چمکاتی ہے عشق ہے وہ ہے وہ جتنا بہکو اتنا ہی اچھا یہ گمراہی منزل تک پہنچاتی ہے پہلی پہلی بار غضب سا لگتا ہے دھیرے دھیرے عادت سی ہوں جاتی ہے جاناں ا سے کو بھی سمجھا کر پچھتاؤگے حقیقت بھی مری ہی جیسی جذباتی ہے

Zubair Ali Tabish

27 likes

چاند کو دامن ہے وہ ہے وہ لا کر رکھ دیا ا سے نے مری گود ہے وہ ہے وہ سر رکھ دیا آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو ہے ک سے کے نام کے ک سے نے کشتی ہے وہ ہے وہ سمندر رکھ دیا حقیقت بتانے لگ گیا تو مجبوریاں اور پھروں ہم نے ریسیور رکھ دیا

Zubair Ali Tabish

31 likes

جب حقیقت مری شا لگ ب شا لگ چلتا ہے پ سے منظر ہے وہ ہے وہ کوئی گانا چلتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پوری ذمہ داری سے پیتا ہوں مری لغزش سے مےخا لگ چلتا ہے آوارہ گر گرا پر خواب ہے لیکن ایک گلی ہے وہ ہے وہ آنا جانا چلتا ہے پل پل ہے وہ ہے وہ بجلی کے جھٹکے دیتے ہوں ایسے تو ب سے پاگل خا لگ چلتا ہے آپ کسی موقعے پر ماتم کرتے ہیں ہم لوگوں کا تو روزا لگ چلتا ہے جاناں کو مری چال پہ فکرے ک سے نے تھے ک سے لو کمر تراش کو اب دیوا لگ چلتا ہے

Zubair Ali Tabish

43 likes

حقیقت کیا ہے کہ پھولو کو دھوکہ ہوا تھا تیرا سوٹ تتلی نے پہنا ہوا تھا مجھے کیا پتا باڑھ ہے وہ ہے وہ کون ڈوبا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کشتی بنانے ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید اسی ہاتھ ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو ہوں وہی ہاتھ جو مجھ سے چھوٹا ہوا تھا کسی کی جگہ پر کھڑا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سیٹ پر کوئی بیٹھا ہوا تھا پرانی غزل ڈسٹبن ہے وہ ہے وہ پڑی تھی نیا شعر ٹیبل پہ رکھا ہوا تھا تمہیں دیکھ کر کچھ تو بھولا ہوا ہوں انتقامن یاد آیا ہے وہ ہے وہ روٹھا ہوا تھا

Zubair Ali Tabish

30 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Zubair Ali Tabish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Zubair Ali Tabish's ghazal.