ghazalKuch Alfaaz

vo siva yaad aae bhulane ke baad zindagi badh gai zahr khane ke baad dil sulagta raha ashiyane ke baad aag thandi hui ik zamane ke baad raushni ke liye dil jalana pada aisi zulmat badhi tere jaane ke baad jab na kuchh ban pada arz-e-ghham ka javab vo khafa ho gae muskurane ke baad dushmanon se pasheman hona pada doston ka khulus azmane ke baad ranj had se guzar ke khushi ban gaya ho gae paar ham duub jaane ke baad bakhsh de ya rab ahl-e-havas ko bahisht mujh ko kya chahiye tujh ko paane ke baad kaise kaise gile yaad aae 'khumar' un ke aane se qabl un ke jaane ke baad wo siwa yaad aae bhulane ke baad zindagi badh gai zahr khane ke baad dil sulagta raha aashiyane ke baad aag thandi hui ek zamane ke baad raushni ke liye dil jalana pada aisi zulmat badhi tere jaane ke baad jab na kuchh ban pada arz-e-gham ka jawab wo khafa ho gae muskurane ke baad dushmanon se pasheman hona pada doston ka khulus aazmane ke baad ranj had se guzar ke khushi ban gaya ho gae par hum dub jaane ke baad bakhsh de ya rab ahl-e-hawas ko bahisht mujh ko kya chahiye tujh ko pane ke baad kaise kaise gile yaad aae 'khumar' un ke aane se qabl un ke jaane ke baad

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی

Kumar Vishwas

53 likes

گلے تو لگنا ہے ا سے سے کہو ابھی لگ جائے یہی لگ ہوں میرا ا سے کے بغیر جی لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں تری پا سے یہ لگ ہوں کہ کہی تیرا مزاق ہوں اور مری زندگی لگ جائے ا گر کوئی تیری رفتار ماپنے نکلے دماغ کیا ہے جہانوں کی روشنی لگ جائے تو ہاتھ اٹھا نہیں سکتا تو میرا ہاتھ پکڑ تجھے دعا نہیں لگتی تو شاعری لگ جائے پتا کروں گا اندھیرے ہے وہ ہے وہ ک سے سے ملتا ہے اور ا سے عمل ہے وہ ہے وہ مجھے چاہے آگ بھی لگ جائے ہمارے ہاتھ ہی جلتے رہیں گے سگریٹ سے کبھی تمہارے بھی کپڑوں پہ استری لگ جائے ہر ایک بات کا زار نکالنے والوں تمہارے نام کے آگے لگ مطلبی لگ جائے کلا سے روم ہوں یا حشر کیسے ممکن ہے ہمارے ہوتے تیری غیر حاضری لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پچھلے بی سے بر سے سے تیری گرفت ہے وہ ہے وہ ہوں کے اتنے دیر ہے وہ ہے وہ تو کوئی آئی جی لگ جائے

Tehzeeb Hafi

124 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Khumar Barabankavi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Khumar Barabankavi's ghazal.