وہاں کیسے کوئی دیا جلے جہاں دور تک یہ ہوا نہ ہوں انہیں حال دل نہ سنائیے جنہیں غزلوں کا پتا نہ ہوں ہوں عجب طرح کی شکایتیں ہوں عجب طرح کی عنایتیں تجھے مجھ سے شکوے ہزار ہوں مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہ ہوں کوئی ایسا شعر بھی دے خدا جو تری عطا ہوں تری عطا کبھی جیسا ہے وہ ہے وہ نے کہا نہ ہوں کبھی جیسا ہے وہ ہے وہ نے سنا نہ ہوں نہ دیے کا ہے نہ ہوا کا ہے یہاں جو بھی کچھ ہے خدا کا ہے یہاں ایسا کوئی دیا نہیں جو جلا ہوں اور حقیقت بجھا نہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مریض عشق ہوں چارہ گر تو ہے درد عشق سے بے خبر یہ تڑپ ہی اس کا کا علاج ہے یہ تڑپ نہ ہوں تو شفا نہ ہوں
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Nawaz Deobandi
لے کے ماضی کو جو حال آیا تو دل کانپ گیا تو جب کبھی ان کا خیال آیا تو دل کانپ گیا تو ایسا توڑا تھا محبت ہے وہ ہے وہ کسی نے دل کو جب کسی شیشے ہے وہ ہے وہ بال آیا تو دل کانپ گیا تو سر بلن گرا پہ تو مغرور تھے ہم بھی لیکن چڑھتے سورج پہ زوال آیا تو دل کانپ گیا تو بد نظر اٹھنے ہی والی تھی کسی کی جانب اپنے بیٹی کا خیال آیا تو دل کانپ گیا تو
Nawaz Deobandi
7 likes
خود کو کتنا چھوٹا کرنا پڑتا ہے بیٹے سے سمجھوتا کرنا پڑتا ہے جب اولادیں گرفتار تعصب ہوں جاتی ہیں اپنے اوپر غصہ کرنا پڑتا ہے سچائی کو اپنانا آسان نہیں دنیا بھر سے جھگڑا کرنا پڑتا ہے جب سارے کے سارے ہی بے پردہ ہوں ایسے ہے وہ ہے وہ خود پردہ کرنا پڑتا ہے پیاسوں کی بستی ہے وہ ہے وہ شعلے بھڑکا کر پھروں پانی کو مہنگا کرنا پڑتا ہے ہنسکر اپنے چہرے کی ہر سلوٹ پر شیشے کو شرمندہ کرنا پڑتا ہے
Nawaz Deobandi
2 likes
منزل پہ لگ پہنچے اسے رستہ نہیں کہتے دو چار قدم چلنے کو چلنا نہیں کہتے اک ہم ہیں کہ غیروں کو بھی کہ دیتے ہیں اپنا اک جاناں ہوں کہ اپنوں کو بھی اپنا نہیں کہتے کم ہمتی خطرہ ہے سمندر کے سفر ہے وہ ہے وہ ہے وہ طوفان کو ہم دوستو خطرہ نہیں کہتے بن جائے ا گر بات تو سب کہتے ہیں کیا کیا اور بات بگڑ جائے تو کیا کیا نہیں کہتے
Nawaz Deobandi
33 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nawaz Deobandi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nawaz Deobandi's ghazal.







