ghazalKuch Alfaaz

منزل پہ لگ پہنچے اسے رستہ نہیں کہتے دو چار قدم چلنے کو چلنا نہیں کہتے اک ہم ہیں کہ غیروں کو بھی کہ دیتے ہیں اپنا اک جاناں ہوں کہ اپنوں کو بھی اپنا نہیں کہتے کم ہمتی خطرہ ہے سمندر کے سفر ہے وہ ہے وہ ہے وہ طوفان کو ہم دوستو خطرہ نہیں کہتے بن جائے ا گر بات تو سب کہتے ہیں کیا کیا اور بات بگڑ جائے تو کیا کیا نہیں کہتے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

More from Nawaz Deobandi

لے کے ماضی کو جو حال آیا تو دل کانپ گیا تو جب کبھی ان کا خیال آیا تو دل کانپ گیا تو ایسا توڑا تھا محبت ہے وہ ہے وہ کسی نے دل کو جب کسی شیشے ہے وہ ہے وہ بال آیا تو دل کانپ گیا تو سر بلن گرا پہ تو مغرور تھے ہم بھی لیکن چڑھتے سورج پہ زوال آیا تو دل کانپ گیا تو بد نظر اٹھنے ہی والی تھی کسی کی جانب اپنے بیٹی کا خیال آیا تو دل کانپ گیا تو

Nawaz Deobandi

7 likes

خود کو کتنا چھوٹا کرنا پڑتا ہے بیٹے سے سمجھوتا کرنا پڑتا ہے جب اولادیں گرفتار تعصب ہوں جاتی ہیں اپنے اوپر غصہ کرنا پڑتا ہے سچائی کو اپنانا آسان نہیں دنیا بھر سے جھگڑا کرنا پڑتا ہے جب سارے کے سارے ہی بے پردہ ہوں ایسے ہے وہ ہے وہ خود پردہ کرنا پڑتا ہے پیاسوں کی بستی ہے وہ ہے وہ شعلے بھڑکا کر پھروں پانی کو مہنگا کرنا پڑتا ہے ہنسکر اپنے چہرے کی ہر سلوٹ پر شیشے کو شرمندہ کرنا پڑتا ہے

Nawaz Deobandi

2 likes

وہاں کیسے کوئی دیا جلے جہاں دور تک یہ ہوا نہ ہوں انہیں حال دل نہ سنائیے جنہیں غزلوں کا پتا نہ ہوں ہوں عجب طرح کی شکایتیں ہوں عجب طرح کی عنایتیں تجھے مجھ سے شکوے ہزار ہوں مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہ ہوں کوئی ایسا شعر بھی دے خدا جو تری عطا ہوں تری عطا کبھی جیسا ہے وہ ہے وہ نے کہا نہ ہوں کبھی جیسا ہے وہ ہے وہ نے سنا نہ ہوں نہ دیے کا ہے نہ ہوا کا ہے یہاں جو بھی کچھ ہے خدا کا ہے یہاں ایسا کوئی دیا نہیں جو جلا ہوں اور حقیقت بجھا نہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مریض عشق ہوں چارہ گر تو ہے درد عشق سے بے خبر یہ تڑپ ہی اس کا کا علاج ہے یہ تڑپ نہ ہوں تو شفا نہ ہوں

Nawaz Deobandi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nawaz Deobandi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nawaz Deobandi's ghazal.