ghazalKuch Alfaaz

حقیقت آدمی نہیں ہے مکمل نقص ہے ماتھے پہ ا سے کے چوٹ کا گہرا نشان ہے حقیقت کر رہے ہیں عشق پہ سنجیدہ گفتگو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا بتاؤں میرا کہی اور دھیان ہے سامان کچھ نہیں ہے پھٹے حال ہے م گر جھولے ہے وہ ہے وہ ا سے کے پا سے کوئی سنودھان ہے ا سے سر پھرے کو یوں نہیں بہلا سکوگے آپ حقیقت آدمی نیا ہے م گر ساودھان ہے فسلے جو ا سے جگہ تو لڑھکتے چلے گئے ہم کو پتا نہیں تھا کہ اتنی ڈھلان ہے دیکھے ہیں ہم نے دور کئی اب خبر نہیں پاؤں تلے زمین ہے یا آسمان ہے حقیقت آدمی ملا تھا مجھے ا سے کی بات سے ایسا لگا کہ حقیقت بھی بے حد بے زبان ہے

Related Ghazal

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

More from Dushyant Kumar

جانے کہ سے کہ سے کا خیال آیا ہے ای سے سمندر ہے وہ ہے وہ ابال آیا ہے ایک بچہ تھا ہوا کا جھونکا صاف پانی کو کھنگال آیا ہے ایک ڈھیلا تو وہیں اٹکا تھا ایک تو اور اچھال آیا ہے کل تو نکلا تھا بہت سج دھج کے آج لوٹا تو شام سبا آیا ہے یہ نظر ہے کہ کوئی موسم ہے یہ صبا ہے کہ وبال آیا ہے ہم نے سوچا تھا جواب آئےگا ایک بےہودہ سوال آیا ہے

Dushyant Kumar

5 likes

یہ شفق شام ہوں رہی ہے اب اور ہر گام ہوں رہی ہے اب ج سے تباہی سے لوگ بچتے تھے حقیقت سر عام ہوں رہی ہے اب عظمت ملک ا سے سیاست کے ہاتھ نیلام ہوں رہی ہے اب شب غنیمت تھی لوگ کہتے ہیں صبح بدنام ہوں رہی ہے اب جو کرن تھی کسی دریچے کی مرکز بام ہوں رہی ہے اب تشنہ لبی لب تیری فسفساہٹ بھی ایک پیغام ہوں رہی ہے اب

Dushyant Kumar

2 likes

لفظ احسا سے سے چھانے لگے یہ تو حد ہے لفظ مانے بھی چھپانے لگے یہ تو حد ہے آپ دیوار اٹھانے کے لیے آئی تھے آپ دیوار اٹھانے لگے یہ تو حد ہے خموشی شور سے سنتے تھے کہ گھبراتی ہے خموشی شور مچانے لگے یہ تو حد ہے آدمی ہونٹ چبائے تو سمجھ آتا ہے آدمی چھال چبانے لگے یہ تو حد ہے جسم پہراووں ہے وہ ہے وہ چھپ جاتے تھے پہراووں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جسم ننگے نظر آنے لگے یہ تو حد ہے لوگ تہذیب و تمدن کے سلیقے سیکھے لوگ روتے ہوئے گانے لگے یہ تو حد ہے

Dushyant Kumar

5 likes

روز جب رات کو بارہ کا گجر ہوتا ہے یاتناوں کے اندھیرے ہے وہ ہے وہ سفر ہوتا ہے کوئی رہنے کی جگہ ہے مری سپنوں کے لیے حقیقت گھروندا ہی صحیح مٹی کا بھی گھر ہوتا ہے سر سے سینے ہے وہ ہے وہ کبھی پیٹ سے پاؤں ہے وہ ہے وہ کبھی اک جگہ ہوں تو کہی درد ادھر ہوتا ہے ایسا لگتا ہے کہ اڑ کر بھی ک ہاں پہنچیں گے ہاتھ ہے وہ ہے وہ جب کوئی ٹوٹا ہوا پر ہوتا ہے سیر کے واسطے سڑکوں پہ نکل آتے تھے اب تو آکاش سے پتھراؤ کا ڈر ہوتا ہے

Dushyant Kumar

5 likes

ہے وہ ہے وہ جسے اوڑھتا بچھاتا ہوں حقیقت غزل آپ کو سناتا ہوں ایک جنگل ہے تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں راہ بھول جاتا ہوں تو کسی ریل سی گزرتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی پل سا سرائے ہوں ہر طرف اعتراض ہوتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر روشنی ہے وہ ہے وہ آتا ہوں ایک بازو اُکھڑ گیا تو جب سے اور زیادہ وزن اٹھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے بھولنے کی کوشش ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج کتنے قریب پاتا ہوں کون یہ فاصلہ نبھائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ فرشتہ ہوں سچ بتاتا ہوں

Dushyant Kumar

18 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Dushyant Kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Dushyant Kumar's ghazal.