ghazalKuch Alfaaz

حقیقت اپنے بند قبا کھولتی تو کیا لگتی خدا کے واسطے کوئی کہے خدا لگتی یقین تھی تو یقین ہے وہ ہے وہ سما گئی کیسے گمان تھی تو گماں سے بھی ماورا لگتی اگر بکھرتی تو سورج کبھی نہیں اگتا ترا خیال کہ حقیقت زلف بس گھٹا لگتی تری مریض کو دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں لگتا دوا لگے نہ رقیبوں کی بد دعا لگتی ہوئی ہے قید زمانے ہے وہ ہے وہ روشنی کس سے بھلا حقیقت جسم اور اس کا کو کوئی قباء لگتی لگی حقیقت تجھ سی تو عالم ہے وہ ہے وہ منفرد ٹھہری وگرنہ آم سی لگتی اگر جدا لگتی

Ameer Imam3 Likes

Related Ghazal

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Ameer Imam

یوں مری ہونے کو مجھ پر آشکار ا سے نے کیا مجھ ہے وہ ہے وہ پوشیدہ کسی دریا کو پار ا سے نے کیا پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناو پر کاغذ کی پھروں مجھ کو سوار ا سے نے کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا اک آواز مجھ کو خموشی سے توڑ کر کرچیوں کو دیر تک مری شمار ا سے نے کیا دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیا تو رات آئی تو مری بستر کو دار ا سے نے کیا ج سے کو ا سے نے روشنی سمجھا تھا مری دھوپ تھی شام ہونے کا مری پھروں انتظار ا سے نے کیا دیر تک بنتا رہا آنکھوں کے کرگھے پر مجھے بُن گیا تو جب ہے وہ ہے وہ تو مجھ کو تار تار ا سے نے کیا

Ameer Imam

1 likes

ان کو خلا ہے وہ ہے وہ کوئی نظر آنا چاہیے آنکھوں کو ٹوٹے خواب کا ہرجا لگ چاہیے حقیقت کام رہ کے کرنا پڑا شہر ہے وہ ہے وہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجنوں کو ج سے کے واسطے ویرا لگ چاہیے ا سے زخم دل پہ آج بھی سرخی کو دیکھ کر اترا رہے ہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اترانا چاہیے تنہائیوں پہ اپنی نظر کر ذرا کبھی اے بیوقوف دل تجھے گھبرانا چاہیے ہے ہجر تو کباب لگ خانے سے کیا اصول گر عشق ہے تو کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مر جانا چاہیے دانائیاں بھی خوب ہیں لیکن ا گر ملے دھوکہ حسین سا تو اسے خا لگ چاہیے بیتے دنوں کی کوئی نشانی تو ساتھ ہوں جان حیا تمہیں ذرا شرمانا چاہیے ا سے شاعری ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں چار چھے کے لیے دلدار چاہیے کوئی دیوا لگ چاہیے

Ameer Imam

6 likes

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں کے سفر سے پلٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جمع کرتا ہوں شب کے سیاہی قطروں کو ب سمے صبح پھروں ان کو پلٹ کے سوتا ہوں تلاش دھوپ ہے وہ ہے وہ کرتا ہوں سارا دن خود کو تمام رات ستاروں ہے وہ ہے وہ بٹ کے سوتا ہوں ک ہاں سکون کہ شب و روز گھومنا ا سے کا ذرا زمین کے محور سے ہٹ کے سوتا ہوں تری بدن کی خلاوں ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلتی ہے ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگ جاگ کے راتیں گزارنے والا اک ایسی رات بھی آتی ہے ڈٹ کے سوتا ہوں

Ameer Imam

4 likes

کہ چنو کوئی مسافر وطن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی ہوئی جو شام تو پھروں سے تھکن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی لگ آبشار لگ صحرا لگا سکے قیمت ہم اپنی پیا سے کو لے کر دہن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی سفر طویل بے حد تھا کسی کی آنکھوں تک تو ا سے کے بعد ہم اپنے بدن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کبھی گئے تھے ہواؤں کا سامنا کرنے سبھی چراغ اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی کسی طرح تو فضاؤں کی خموشی ٹوٹے تو پھروں سے شور سلاسل چلن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی امیر امام بتاؤ یہ ماجرا کیا ہے تمہارے شعر اسی بانکپن ہے وہ ہے وہ لوٹ آئی

Ameer Imam

2 likes

روداد جاں کہی جو ذرا دم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے دل کے راستے ہے وہ ہے وہ کئی خم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لبیک پہلے ہم نے کہا تھا رسول حسن ہوں کارزار عشق تو پرچم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئی اک ایسا زخم جو بھرنا لگ ہوں کبھی زبان ہر ایک زخم کا مرہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ ج ہاں سراب ملے تھے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں آئی جو رات قطرہ شبنم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں چنو اور لوگ بھی ہوں گے جہان ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بات اور ہے کہ بے حد کم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب ساتھ تھے تو مل کے بھی ملنا لگ ہوں سکا جب سے بچھڑ گئے ہوں تو پےہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور پھروں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خود پہ بے حد پیار آ گیا تو ا سے کی طرف کھڑے ہوئے جب ہم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو عمر بھر کا ساتھ نبھاتا لگ مل سکا ویسے تو زندگی ہے وہ ہے وہ بے حد غم ملے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ

Ameer Imam

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ameer Imam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ameer Imam's ghazal.