ghazalKuch Alfaaz

تری آنے کا دھوکہ سا رہا ہے دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے غضب ہے رات سے آنکھوں کا عالم یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل م گر حقیقت شہر جو پیاسا رہا ہے حقیقت کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے کسے ڈھونڈو گے ان گلیوں ہے وہ ہے وہ ناصر چلو اب گھر چلیں دن جا رہا ہے

Nasir Kazmi11 Likes

Related Ghazal

برسوں پرانا دوست ملا چنو غیر ہوں دیکھا رکا جھجھک کے کہا جاناں عمیر ہوں ملتے ہیں مشکلوں سے ی ہاں ہم خیال لوگ تری تمام چاہنے والوں کی خیر ہوں کمرے ہے وہ ہے وہ سگریٹوں کا دھواں اور تیری مہک چنو شدید دھند ہے وہ ہے وہ باغوں کی سیر ہوں ہم مطمئن بے حد ہیں ا گر خوش نہیں بھی ہیں جاناں خوش ہوں کیا ہوا جو ہمارے بغیر ہوں پیروں ہے وہ ہے وہ ا سے کے سر کو دھریں التجا کریں اک التجا کہ جس کا لگ سر ہوں لگ پیر ہوں

Umair Najmi

59 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Nasir Kazmi

دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

Nasir Kazmi

11 likes

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے

Nasir Kazmi

2 likes

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل ایک سمے ترا پھول سا چھوؤں گا ہاتھ تھا میرے شانے پر ایک یہ وقت کہ ہے وہ ہے وہ تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل یاد ہے اب تک تجھ سے چیزیں کی حقیقت اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ایک نئی دنیا کی دھن ہے وہ ہے وہ اطراف پھرتا ہوں میری تجھ سے کیسے سنانی ایک ہیں تیرے فکر و عمل میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے دیکھ ای سے کالی رات کو دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مری چلنا ہوں تو چل

Nasir Kazmi

4 likes

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ لگ سنو تو بہتر ہے دیوا لگ ہے دیوانے کے منا لگ لگو تو بہتر ہے کل جو تھا حقیقت آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائےگا روخی سوخی جو مل جائے شکر کروں تو بہتر ہے کل یہ تاب و توں لگ رہےگی ٹھنڈا ہوں جائےگا لہو نام خدا ہوں جوان ابھی کچھ کر گزرو لگ تو بہتر ہے کیا جانے کیا رت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں اب کے سفر ہے وہ ہے وہ جاناں بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے کپڑے بدل کر بال بنا کر ک ہاں چلے ہوں ک سے کے لیے رات بے حد کالی ہے ناصر گھر ہے وہ ہے وہ رہو تو بہتر ہے

Nasir Kazmi

8 likes

دیار دل کی رات ہے وہ ہے وہ چراغ سا جلا گیا تو ملا نہیں تو کیا ہوا حقیقت شکل تو دکھا گیا تو حقیقت دوستی تو خیر اب نصیب دشمنان ہوئی حقیقت چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا تو جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی دل پامال آ گیا تو پکارتی ہیں فرصتیں ک ہاں گئیں حقیقت صحبتیں ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نگل گئی ا نہیں کہ آسمان کھا گیا تو یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں اب آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ک ہاں چلا گیا تو یہ ک سے خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی حقیقت لہر ک سے طرف گئی یہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں سما گیا تو گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا تو

Nasir Kazmi

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nasir Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.