حقیقت سر فری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آخری چراغ تھا جلنا پڑا مجھے محسو سے کر رہا تھا اسے اپنے آ سے پا سے اپنا خیال خود ہی بدلنا پڑا مجھے سورج نے سیاہ بخت سیاہ بخت اجا گر کیا تو تھا لیکن تمام رات پگھلنا پڑا مجھے موزو گفتگو تھی مری خموشی کہی جو زہر پی چکا تھا اگلنا پڑا مجھے کچھ دور تک تو چنو کوئی مری ساتھ تھا پھروں اپنے ساتھ آپ ہی چلنا پڑا مجھے
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
More from Ameer Qazalbash
فکر غربت ہے لگ اندیشہ تنہائی ہے زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے لوگ ج سے حال ہے وہ ہے وہ مرنے کی دعا کرتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے حال ہے وہ ہے وہ جینے کی قسم کھائی ہے ہم لگ سقراط لگ منصور لگ عیسی لیکن جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنا ئی ہے زندگی اور ہیں کتنے تری چہرے یہ بتا تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شنا سائی ہے کون ناواقف انجام تبسم ہے امیر مری حالات پہ یہ ک سے کو ہنسی آئی ہے
Ameer Qazalbash
2 likes
ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب رستہ ا گر ہوں یاد تو گھر جائیے جناب زندہ اوی سے کے تلاطم ہیں سامنے خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب انصاف کی صلیب ہوں سچائیوں کا زہر مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب دن کا سفر تو کٹ گیا تو سورج کے ساتھ ساتھ اب شب کی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ بکھر جائیے جناب کوئی چرا کے لے گیا تو صدیوں کا اعتقاد منبر کی سیڑھیوں سے اتر جائیے جناب
Ameer Qazalbash
2 likes
میری پہچان ہے کیا میرا پتا دے مجھ کو کوئی آئینہ اگر ہے تو دکھا دے مجھ کو تجھ سے ملتا ہوں تو 9 یہ خیال آتا ہے ای سے بلندی سے اگر کوئی گرا دے مجھ کو کب سے پتھر کی چٹانوں ہے وہ ہے وہ ہوں گمنام و ہم نوا سراپے کی طرح کوئی جگا دے مجھ کو ایک آئینہ سر راہ لیے بیٹھا ہوں جرم ایسا ہے کہ ہر بے وجہ سزا دے مجھ کو ان اندھیروں ہے وہ ہے وہ اکیلا ہی جلوں گا کب تک کوئی اجازت تو بھی تو خورشید نما دے مجھ کو
Ameer Qazalbash
1 likes
پائیں ہر ایک راہ گزر پر اداسیاں نکلی ہوئی ہیں کب سے سفر پر اداسیاں خوابیدہ شہر جاگنے والا ہے لوٹ آؤ بیٹھی ہوئی ہیں شام سے گھر پر اداسیاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوف سے لرزتا رہا پڑھ نہیں سکا پھیلی ہوئی تھیں ایک خبر پر اداسیاں سورج کے ہاتھ سبز قباؤں تک آ گئے اب ہیں ی ہاں ہر ایک شجر پر اداسیاں اپنے بھی خط و خال نگا ہوں ہے وہ ہے وہ اب نہیں ا سے طرح چھا گئی ہیں نظر پر اداسیاں پھیلا رہا ہے کون کبھی سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوابوں کے ایک ایک ن گر پر اداسیاں سب لوگ بن گئے ہیں ا گر اجنبی تو کیا چھوڑ آئیںگی مجھے مری در پر اداسیاں
Ameer Qazalbash
0 likes
دل ہے وہ ہے وہ بے نام سی خوشی ہے ابھی زندگی مری کام کی ہے ابھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تجھ سے بچھڑ کے سرگرداں تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھی نمی ہے ابھی دل کی سنسان رہگزاروں پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اک چیخ سی سنی ہے ابھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے مانا بے حد اندھیرا ہے پھروں بھی تھوڑی سی روشنی ہے ابھی اپنے آنسو امیر کیوں پونچھوں ان چراغوں ہے وہ ہے وہ روشنی ہے ابھی
Ameer Qazalbash
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ameer Qazalbash.
Similar Moods
More moods that pair well with Ameer Qazalbash's ghazal.







