حقیقت تو خوشبو ہے ہواؤں ہے وہ ہے وہ بکھر جائےگا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائےگا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائےگا کیا خبر تھی کہ رگ جاں ہے وہ ہے وہ اتر جائےگا حقیقت ہواؤں کی طرح رفاقت پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئےگا گزر جائےگا حقیقت جب آئےگا تو پھروں اس کا کی رفاقت کے لیے تہذیب مری آنگن ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائےگا آخرش حقیقت بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوں گی تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائےگا مجھ کو برزخ کے وارث کا بنایا اجداد جرم یہ بھی مری ٹھیس کے سر جائےگا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Parveen Shakir
اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے
Parveen Shakir
0 likes
قبائیں کر مری بازو اڑان چھوڑ گیا تو ہوا کے پا سے برہ لگ کمان چھوڑ گیا تو رفاقتوں کا مری ا سے کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی م گر آسمان چھوڑ گیا تو عجیب بے وجہ تھا بارش کا رنگ دیکھ کے بھی کھلے دریچے پہ اک فول دان چھوڑ گیا تو جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھپائے رکھتا تھا بڑھی ہے دھوپ تو بے سائےبان چھوڑ گیا تو نکل گیا تو کہی ان دیکھے پانیوں کی طرف ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے نام کھلا بادبان چھوڑ گیا تو عقاب کو تھی غرض نقش قدم پکڑنے سے جو گر گئی تو یوںہی نیم جان چھوڑ گیا تو لگ جانے کون سا آسیب دل ہے وہ ہے وہ بستہ ہے کہ جو بھی ٹھہرا حقیقت آخر مکان چھوڑ گیا تو عقب ہے وہ ہے وہ گہرا سمندر ہے سامنے جنگل ک سے انتہا پہ میرا مہربان چھوڑ گیا تو
Parveen Shakir
5 likes
بجا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوں گی حقیقت آئی آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں
Parveen Shakir
7 likes
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا عشق کے ا سے سفر نے تو مجھ کو شام سبا کر دیا اے مری گل ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے چاہ تھی اک کتاب کی اہل کتاب نے م گر کیا ترا حال کر دیا ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی ا سے نے م گر بچھڑتے سمے اور سوال کر دیا اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر بانو شب کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ رکھنا سنبھال کر دیا ممکنا فیصلوں ہے وہ ہے وہ ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا ہم نے تو ایک بات کی ا سے نے غصہ کر دیا مری لبوں پہ مہر تھی پر مری شیشہ رو نے تو شہر کے شہر کو میرا واقف حال کر دیا چہرہ و نام ایک ساتھ آج لگ یاد آ سکے سمے نے ک سے شبیہ کو خواب و خیال کر دیا مدتوں بعد ا سے نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا منصف دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا
Parveen Shakir
1 likes
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا
Parveen Shakir
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Parveen Shakir.
Similar Moods
More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.







