ghazalKuch Alfaaz

بجا کہ آنکھ ہے وہ ہے وہ نیندوں کے سلسلے بھی نہیں شکست خواب کے اب مجھ ہے وہ ہے وہ حوصلے بھی نہیں نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوں گی حقیقت آئی آ کے چلے بھی گئے ملے بھی نہیں یہ کون لوگ اندھیروں کی بات کرتے ہیں ابھی تو چاند تری یاد کے ڈھلے بھی نہیں ابھی سے مری رفو گر کے ہاتھ تھکنے لگے ابھی تو چاک مری زخم کے صلے بھی نہیں خفا اگرچہ ہمیشہ ہوئے م گر اب کے حقیقت برہمی ہے کہ ہم سے ا نہیں گلے بھی نہیں

Related Ghazal

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

183 likes

مری دل ہے وہ ہے وہ یہ تری سوا کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے ہم محبت ہے وہ ہے وہ ہارے ہوئے لوگ ہیں اور محبت ہے وہ ہے وہ جیتا ہوا کون ہے مری پہلو سے اٹھ کے گیا تو کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے تو نے جاتے ہوئے یہ بتایا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا کون ہوں تو میرا کون ہے

Tehzeeb Hafi

145 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Parveen Shakir

اب اتنی سادگی لائیں ک ہاں سے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کی خیر مانگے آ سماں سے ا گر چاہیں تو حقیقت دیوار کر دیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب کچھ نہیں کہنا زبان سے ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا تو کشتی کام لے کیا بادباں سے بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں پتا منزل کا برق سے برق برق کی حاصل رہی ہے سو ہے آزاد رازداں سے ہوا کو راز داں ہم نے بنایا اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے ضروری ہوں گئی ہے دل کی ظفر جلوے فنا فی ال عشق جاتے ہیں مکان سے خیرو ہونا چاہتے تھے م گر فرصت لگ تھی کار ج ہاں سے وگر لگ فصل گل کی دودمان کیا تھی بڑی حکمت ہے وابستہ اڑائے سے کسی نے بات کی تھی ہن سے کے شاید زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی ا گر ہوتا حقیقت دشمن کی کماں سے جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں ا نہیں تکلیف کیوں پہنچے اڑائے سے جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں ا نہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

Parveen Shakir

0 likes

اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر ک ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہوں گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں ایک اک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں آج ہے وہ ہے وہ خود کو تری یاد ہے وہ ہے وہ تنہا دیکھوں کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر اتنے غیروں ہے وہ ہے وہ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں تو میرا کچھ نہیں لگتا ہے م گر جان حیات جانے کیوں تری لیے دل کو دھڑکنا دیکھوں بند کر کے مری آنکھیں حقیقت شرارت سے ہنسے بوجھے جانے کا ہے وہ ہے وہ ہر روز تماشا دیکھوں سب زدیں ا سے کی ہے وہ ہے وہ پوری کروں ہر بات سنوں ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں مجھ پہ چھا جائے حقیقت برسات کی خوشبو کی طرح انگ انگ اپنا اسی رت ہے وہ ہے وہ مہکتا دیکھوں پھول کی طرح مری جسم کا ہر لب کھل جائے پھکڑی پھکڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ج سے لمحے کو پوجا ہے اسے ب سے اک بار خواب ب

Parveen Shakir

2 likes

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا

Parveen Shakir

4 likes

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا ا سے زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش پھروں شاخ پہ ا سے پھول کو کھلتے نہیں دیکھا یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں ج سے پیڑ کو آندھی ہے وہ ہے وہ بھی ہلتے نہیں دیکھا کانٹوں ہے وہ ہے وہ گھیرے پھول کو چوم آوےگی عشق دل لیکن تتلی کے پروں کو کبھی چھیلتے نہیں دیکھا ک سے طرح مری روح خا لگ وحدت پسند کر گیا تو آخر حقیقت زہر جسے جسم ہے وہ ہے وہ کھلتے نہیں دیکھا

Parveen Shakir

1 likes

دل کا کیا ہے حقیقت تو چاہےگا مسلسل ملنا حقیقت ستم گر بھی م گر اپائے کسی پل ملنا واں نہیں سمے تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت ا سے سے کیا م لیے جو ہر روز کہے کل ملنا عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم شہر کی سوچ ہے وہ ہے وہ ہوں اور اسے جنگل ملنا ا سے کا ملنا ہے غضب طرح کا ملنا چنو دشت امید ہے وہ ہے وہ اندیشے کا بادل ملنا دامن شب کو ا گر چاک بھی کر لیں تو ک ہاں نور ہے وہ ہے وہ ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا

Parveen Shakir

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Parveen Shakir.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Parveen Shakir's ghazal.