ghazalKuch Alfaaz

ye hadisa to hua hi nahin hai tere baad ghhazal kisi ko kaha hi nahin hai tere baad hai pur-sukun samundar kuchh is tarah dil ka ki jaise chand khila hi nahin hai tere baad mahakti raat se dil se qalam se kaghhaz se kisi se rabt rakha hi nahin hai tere baad khayal khvab fasane kahaniyan thiin magar vo khat tujhe bhi likha hi nahin hai tere baad kahan se mahkegi honton pe lams ki khushbu kisi ko main ne chhua hi nahin hai tere baad charaghh palkon pe 'azar' kisi ki yadon ka qasam khuda ki jala hi nahin hai tere baad ye hadisa to hua hi nahin hai tere baad ghazal kisi ko kaha hi nahin hai tere baad hai pur-sukun samundar kuchh is tarah dil ka ki jaise chand khila hi nahin hai tere baad mahakti raat se dil se qalam se kaghaz se kisi se rabt rakha hi nahin hai tere baad khayal khwab fasane kahaniyan thin magar wo khat tujhe bhi likha hi nahin hai tere baad kahan se mahkegi honton pe lams ki khushbu kisi ko main ne chhua hi nahin hai tere baad charagh palkon pe 'azar' kisi ki yaadon ka qasam khuda ki jala hi nahin hai tere baad

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

More from Kafeel Aazar Amrohvi

آج ہے وہ ہے وہ نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہے حقیقت دریچہ تو مری قد سے بہت اونچا ہے اپنے کمرے کو اندھیروں سے بھرا پایا ہے تیرے بارے ہے وہ ہے وہ کبھی غور سے جب سوچا ہے ہر تمنا کو روایت کی طرح توڑا ہے تب کہیں جا کے زمانہ مجھے راس آیا ہے جاناں کو شکوہ ہے مری عہد محبت سے مگر جاناں نے پانی پہ کوئی لفظ کبھی لکھا ہے ایسا بچھڑا کہ ملا ہی نہیں پھروں اس کا کا پتا ہاں یہ حقیقت بے وجہ جو 9 مجھے یاد آتا ہے کوئی اس کا بے وجہ کو اپنا نہیں کہتا آذر اپنے گھر ہے وہ ہے وہ بھی حقیقت غیروں کی طرح رہتا ہے

Kafeel Aazar Amrohvi

1 likes

ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتر جانے کو جی چاہتا ہے شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے کسی کم ظرف کو با ظرف ا گر کہنا پڑے ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اک بات ہے وہ ہے وہ سچائی ہے ا سے کی لیکن اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے قرض ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ادا ہوں جائے ذات ہے وہ ہے وہ اپنی بکھر جانے کو جی چاہتا ہے اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے یادوں کے دیے ا سے کی نیندوں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اجڑے ہوئے ویران کھنڈر ہے وہ ہے وہ آذر نا مناسب ہے م گر جانے کو جی چاہتا ہے

Kafeel Aazar Amrohvi

12 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kafeel Aazar Amrohvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kafeel Aazar Amrohvi's ghazal.