ghazalKuch Alfaaz

ye kamyabiyan izzat ye naam tum se hai ai meri maan mira saara maqam tum se hai tumhare dam se hain mere lahu men khilte gulab mire vajud ka saara nizam tum se hai gali gali men jo avara phir raha hota jahan-bhar men vahi nek-nam tum se hai kahan bisat-e-jahan aur main kamsin-o-nadan ye meri jiit ka sab ehtimam tum se hai jahan jahan hai miri dushmani sabab men huun jahan jahan hai mira ehtiram tum se hai ai meri maan mujhe har-pal rahe tumhara khayal tum hi se subh miri meri shaam tum se hai ye kamyabiyan izzat ye naam tum se hai ai meri maan mira saara maqam tum se hai ye kaamyabiyan izzat ye nam tum se hai ai meri man mera sara maqam tum se hai tumhaare dam se hain mere lahu mein khilte gulab mere wajud ka sara nizam tum se hai gali gali mein jo aawara phir raha hota jahan-bhar mein wahi nek-nam tum se hai kahan bisat-e-jahan aur main kamsin-o-nadan ye meri jit ka sab ehtimam tum se hai jahan jahan hai meri dushmani sabab mein hun jahan jahan hai mera ehtiram tum se hai ai meri man mujhe har-pal rahe tumhaara khayal tum hi se subh meri meri sham tum se hai ye kaamyabiyan izzat ye nam tum se hai ai meri man mera sara maqam tum se hai

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

More from Wasi Shah

ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی ہے جاناں سے ب سے یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی ترا ہر بار مری خط کو پڑھنا اور رو دینا میرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی کیا تھا ہم نے کیمپ سے کی ن گرا پر اک حسین وعدہ بھلے ہم کو پڑے مرنا محبت مر نہیں سکتی پرانی عہد کو جب زندہ کرنے کا خیال آئی مجھے ب سے اتنا لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی حقیقت تیرا ہجر کی شب فون رکھنے سے ذرا پہلے بے حد روتے ہوئے کہنا محبت مر نہیں سکتی گئے لمحات فرصت کے ک ہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں حقیقت پہروں ہاتھ پر لکھنا محبت مر نہیں سکتی

Wasi Shah

7 likes

سمندر ہے وہ ہے وہ اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑ کیوں ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لگ جانے ہوں گیا تو ہوں ا سے دودمان حسا سے ہے وہ ہے وہ کب سے کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارا دن بے حد مصروف رہتا ہوں م گر جیوں ہی قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہر اک مفل سے کے ماتھے پر الم کی داستانے ہیں کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے م گر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مری دل پر وسی ہے وہ ہے وہ جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

Wasi Shah

15 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Wasi Shah.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Wasi Shah's ghazal.