ghazalKuch Alfaaz

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی کہ خو گرا کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی تری زندگی اسی سے تری رکھ اسی سے جو رہی خو گرا تو شاہی لگ رہی تو روسیاہی لگ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے مجھے کیا گلہ ہوں تجھ سے تو لگ رہ نشیں لگ راہی مری حلقہ سخن ہے وہ ہے وہ ابھی زیر تربیت ہیں حقیقت تکلیفوں کہ جانتے ہیں رہ و رسم کج کلاہی یہ معاملے ہیں چھوؤں گا جو تری رضا ہوں تو کر کہ مجھے تو خوش لگ آیا یہ طریق خانقاہی تو ہما کا ہے شکاری ابھی ابتدا ہے تیری نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی تو عرب ہوں یا عجم ہوں ترا لا الہ آرا لغت غریب جب تک ترا دل لگ دے گواہی

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے

Jaun Elia

113 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Allama Iqbal

اپنی جولان گاہ زیر آسمان سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لو و گل خاک شہر یاراں کے کھیل کو اپنا ج ہاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حجابی سے تری ٹوٹا نگا ہوں کا طلسم اک ردا نیل گوں کو آ سماں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو مہر و تنخواہ و مشتری کو ہم اننا سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام ا سے زمین و آ سماں کو بے کراں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ گئیں راز محبت پردہ داری ہا شوق تھی فغاں حقیقت بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھی کسی درماندہ لائیں گی کی صدا دردناک ج سے کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا ہے وہ ہے وہ

Allama Iqbal

1 likes

لگ تو ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے لیے ہے لگ آ سماں کے لیے ج ہاں ہے تری لیے تو نہیں ج ہاں کے لیے یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت کے حقیقت خار و خ سے کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے مقام پرورش آہ و لالہ ہے یہ چمن لگ سیر گل کے لیے ہے لگ آشیاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات ہے وہ ہے وہ کب تک ترا سفی لگ کہ ہے بہر بے کراں کے لیے نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو تر سے گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز یہی ہے رخت سفر برق کے لیے ذرا سی بات تھی اندیشہ عزم نے اسے بڑھا دیا ہے فقط زیب داستان کے لیے مری گلو ہے وہ ہے وہ ہے اک نغمہ جبرائیل آشوب سنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکان کے لیے

Allama Iqbal

1 likes

خرد کے پا سے خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں گراں بہا ہے تو حفظ خو گرا سے ہے ور لگ گوہر ہے وہ ہے وہ آب گوہر کے سوا کچھ اور نہیں رگوں ہے وہ ہے وہ گردش خوں ہے ا گر تو کیا حاصل حیات شمع مزار کے سوا کچھ اور نہیں عرو سے لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب کہ ہے وہ ہے وہ نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ حقیقت اجازت متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن عطا شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

Allama Iqbal

0 likes

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینے ہے وہ ہے وہ اسے اور ذرا تھام ابھی پختہ ہوتی ہے ا گر مصلحت اندیش ہوں عقل عشق ہوں مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی بے خطر کود پڑا آتش نمرود ہے وہ ہے وہ عشق عقل ہے محوتماشا لب بام ابھی عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل عقل سمجھی ہی نہیں معنی پیغام ابھی شیوا عشق ہے آزا گرا و دہر آشوبی تو ہے زناری بت خا لگ ایام ابھی عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقی ہے تری دل ہے وہ ہے وہ وہی کاوش انجام ابھی سعی پیہم ہے ترازو کم و کیف حیات تیری میزان ہے شمار سحر و شام ابھی ابر نیساں یہ تنک بخشی شبنم کب تک مری کوہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی بادہ گردان عجم حقیقت عربی مری شراب مری میک اپ سے جھجکتے ہیں می آشام ابھی خبر حفیظ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم گلزار ناز نو گرفتار فڑکتا ہے تہ دام ابھی

Allama Iqbal

3 likes

گلزار ہست و بود لگ بیگا لگ وار دیکھ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ آیا ہے تو ج ہاں ہے وہ ہے وہ مثال شرار دیکھ دم دے لگ جائے ہستی نا پائیدار دیکھ مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری ا گر ہر رہگزر ہے وہ ہے وہ نقش کف پا یار دیکھ

Allama Iqbal

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Allama Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Allama Iqbal's ghazal.