زبان تک جو لگ آئی حقیقت محبت اور ہوتی ہے فسا لگ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے نہیں ملتے تو اک ادنا شکایت ہے لگ ملنے کی م گر مل کر لگ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے یہ مانا رنگینیوں رونق بازار الفت ہے م گر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے یہ مانا حسن کی فطرت بے حد چھوؤں گا ہے اے وامق مزاج عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے
Related Ghazal
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا
Kushal Dauneria
54 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Wamiq Jaunpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Wamiq Jaunpuri's ghazal.







