ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ دی ہے تو تھوڑا سا آ سماں بھی دے مری خدا مری ہونے کا کچھ گماں بھی دے بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب لگ دے یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھروں زبان بھی دے یہ کائنات کا پھیلاؤ تو بے حد کم ہے ج ہاں سما سکے تنہائی حقیقت مکان بھی دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ سے کب تک کیا کروں باتیں مری زبان کو بھی کوئی ترجماں بھی دے فلک کو چاند ستارے تم نوازنے والے مجھے چراغ جلانے کو سایہ بان بھی دے
Related Ghazal
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
کسے فرصت ماہ و سال ہے یہ سوال ہے کوئی سمے ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے لگ ہے فکر گردش آسمان لگ خیال جاں مجھے پھروں یہ کیسا ملال ہے یہ سوال ہے حقیقت سوال جس کا جواب ہے مری زندگی مری زندگی کا سوال ہے یہ سوال ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے تجھ سے بلندیوں پہ جو پست ہوں یہ عروج ہے کہ زوال ہے یہ سوال ہے
Abbas Qamar
46 likes
More from Nida Fazli
دن سلیقے سے اگا رات ٹھکانے سے رہی دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی چند لمحوں کو ہی بنتی ہیں مصور آنکھیں زندگی روز تو تصویر بنانے سے رہی ا سے اندھیرے ہے وہ ہے وہ تو ٹھوکر ہی اجالا دےگی رات جنگل ہے وہ ہے وہ کوئی شمع جلانے سے رہی فاصلہ چاند بنا دیتا ہے ہر پتھر کو دور کی روشنی نزدیک تو آنے سے رہی شہر ہے وہ ہے وہ سب کو ک ہاں ملتی ہے رونے کی جگہ اپنی عزت بھی ی ہاں ہنسنے ہنسانے سے رہی
Nida Fazli
0 likes
دکھ ہے وہ ہے وہ نیر بہا دیتے تھے سکھ ہے وہ ہے وہ ہنسنے لگتے تھے سیدھے سادے لوگ تھے لیکن کتنے اچھے لگتے تھے خوبصورت چڑھتی آندھی جیسی پیار چراغ دیر و کعبہ چشموں سا بیری ہوں یا سنگی ساتھی سارے اپنے لگتے تھے بہتے پانی دکھ سکھ بانٹیں پیڑ بڑے بوڑھوں چنو بچوں کی آہٹ سنتے ہی کھیت لہکنے لگتے تھے ندی پربت چاند نگاہیں جپا ایک کئی دانے چھوٹے چھوٹے سے آنگن بھی کوسوں پھیلے لگتے تھے
Nida Fazli
2 likes
تو قریب آئی تو قربت کا یوں اظہار کروں آئی لگ سامنے رکھ کر ترا دیدار کروں سامنے تری کروں ہار کا اپنی اعلان اور اکیلے ہے وہ ہے وہ تری جیت سے انکار کروں پہلے سوچوں اسے پھروں ا سے کی بناؤں تصویر اور پھروں ا سے ہے وہ ہے وہ ہی پیدا در و دیوار کروں مری قبضے ہے وہ ہے وہ لگ مٹی ہے لگ بادل لگ ہوا پھروں بھی چاہت ہے کہ ہر شاخ ثمر بار کروں صبح ہوتے ہی ابھر آتی ہے سالم ہوں کر وہی دیوار جسے روز ہے وہ ہے وہ مسمار کروں
Nida Fazli
0 likes
گرجا ہے وہ ہے وہ مندروں ہے وہ ہے وہ اذانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہوتے ہی صبح آدمی خانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو اک عشق نام کا جو پرندہ خلا ہے وہ ہے وہ تھا اترا جو شہر ہے وہ ہے وہ تو دکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو پہلے تلاشا کھیت پھروں دریا کی کھوج کی باقی کا سمے گہیوں کے دانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو جب تک تھا آسمان ہے وہ ہے وہ سورج سبھی کا تھا پھروں یوں ہوا حقیقت چند مکانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو ہیں تاک ہے وہ ہے وہ شکاری نشا لگ ہیں بستیاں عالم تمام چند مچانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں زندہ لہو تو تیر کمانوں ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو
Nida Fazli
1 likes
کسی سے خوش ہے کسی سے خفا خفا سا ہے حقیقت شہر ہے وہ ہے وہ ابھی شاید نیا نیا سا ہے لگ جانے کتنے بدن حقیقت پہن کے ڈیوٹی ہے بے حد قریب ہے پھروں بھی چھپا چھپا سا ہے سلگتا شہر ن گرا خون کب کی باتیں ہیں کہی کہی سے یہ قصہ سنا سنا سا ہے سروں کے سنگ تو جنگل کی دین ہوتے ہیں حقیقت آدمی تو ہے لیکن ڈرا ڈرا سا ہے کچھ اور دھوپ تو ہوں او سے سوکھ جانے تک حقیقت پیڑ اب کے بر سے بھی ہرا ہرا سا ہے
Nida Fazli
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nida Fazli.
Similar Moods
More moods that pair well with Nida Fazli's ghazal.







