ghazalKuch Alfaaz

ذکر آئی تو مری لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعائیں نکلیں سمے کی قابو سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہوں جائیں کہ زرخیز ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہوں سکتا ہے سانسیں نکلیں غار کے منا پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشید غار ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگ ڈالو کہی راتیں نکلیں

Gulzar2 Likes

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

حقیقت تو خوشبو ہے ہواؤں ہے وہ ہے وہ بکھر جائےگا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائےگا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائےگا کیا خبر تھی کہ رگ جاں ہے وہ ہے وہ اتر جائےگا حقیقت ہواؤں کی طرح رفاقت پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئےگا گزر جائےگا حقیقت جب آئےگا تو پھروں اس کا کی رفاقت کے لیے تہذیب مری آنگن ہے وہ ہے وہ ٹھہر جائےگا آخرش حقیقت بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوں گی تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائےگا مجھ کو برزخ کے وارث کا بنایا اجداد جرم یہ بھی مری ٹھیس کے سر جائےگا

Parveen Shakir

22 likes

रब्त है मुझ से तिरा तो रब्त का उनवान बोल या मुझे अंजान कह दे या फिर अपनी जान बोल एक ही चेहरा नज़र में और लबों पे इक ही नाम और क्या होती है सच्चे इश्क़ की पहचान बोल ? मैं अँगूठी बेच कर ले आया तेरी बालियाँ सूने-सूने देखता कब तक मैं तेरे कान बोल ये मुलायम हाथ मेरे काम कब आएँगे जाँ? कब बिछेगा इन से मेरे घर में दस्तर-ख़्वान बोल ? कब मिलेगी सुब्ह तुझ से चाय की प्याली मुझे? कब तेरे हाथों का खाऊँगा कोई पकवान बोल ? कब तिरे वालिद मिरे वालिद से मिलने आएँगे? कब तिरी अम्मी को बोलूँगा मैं अम्मी जान बोल? पूछते है सब तिरा मैं कौन हूँ क्या नाम है बोलने का वक़्त है अब, बोल मेरी जान बोल

Varun Anand

22 likes

مجھ سے بنتا ہوا تو تجھ کو بناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گیت ہوتا ہوا تو گیت سناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کوزے کے تصور سے جڑے ہم دونوں نقش دیتا ہوا تو چاک گھماتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں حرف حکایات کسی تصویر ہے وہ ہے وہ کوئی رستہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بناتا ہوں کہی دور سے آتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک تصویر کی تکمیل کے ہم دو پہلو رنگ بھرتا ہوا تو رنگ بناتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو لے جائے کہی دور بہاتی ہوئی تو تجھ کو لے جاؤں کہی دور اڑاتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک عبارت ہے جو تحریر نہیں ہوں پائی مجھ کو لکھتا ہوا تو تجھ کو مٹاتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری سینے ہے وہ ہے وہ کہی خود کو چھپاتا ہوا تو تری سینے سے ترا درد چراتا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کانچ کا ہوں کے مری آگے بکھرتا ہوا تو کرچیوں کو تری پلکوں سے اٹھاتا ہوا ہے وہ ہے وہ

Ammar Iqbal

17 likes

جن کے آنگن ہے وہ ہے وہ بیگا لگ غم کا شجر لگتا ہے ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے چاند تارے مری قدموں ہے وہ ہے وہ بچھے جاتے ہیں یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے ماں مجھے دیکھ کے ناراض لگ ہوں جائے کہی سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے

Anjum Rehbar

17 likes

More from Gulzar

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے کچھ بھنور ڈوب گئے پانی ہے وہ ہے وہ چھینا جھپٹی ہوئے ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا ہوںگا ہے وہ ہے وہ پیام عشق کھلتا گیا تو جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ مرجھاتے تو اڑائے کیسے کٹےگی تیری شوخ پتے نے کہا شاخ سے بلکتی ہوئے حسرتیں اپنی یتیموں لگ داڑھیاں کی طرح ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے سی لیے ہونٹ حقیقت پاکیزہ نگاہیں سن کر میلی ہوں جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے

Gulzar

1 likes

ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता

Gulzar

3 likes

تنکہ تنکہ کانٹے گرفت ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند ہے وہ ہے وہ کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کوئیں ہے وہ ہے وہ گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے ہے وہ ہے وہ دل کی آہٹ چنو کوئی جاسو سے چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہر جائی کی آنکھوں اور کانوں ہے وہ ہے وہ کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں کیا جاناں نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی ساہو نے گروی رکھ لی تھی مری رات کٹائی کی

Gulzar

0 likes

جب بھی یہ دل ادا سے ہوتا ہے جانے کون آ سے پا سے ہوتا ہے آنکھیں پہچانتی ہیں آنکھوں کو درد چہرہ شنا سے ہوتا ہے گو برستی نہیں صدا آنکھیں ابر تو بارہ ما سے ہوتا ہے چھال پیڑوں کی سخت ہے لیکن نیچے ناخن کے ما سے ہوتا ہے زخم کہتے ہیں دل کا گہنا ہے غزلوں کا لبا سے ہوتا ہے ڈ سے ہی لیتا ہے سب کو عشق کبھی سانپ موقع شنا سے ہوتا ہے صرف اتنا کرم کیا کیجے آپ کو جتنا را سے ہوتا ہے

Gulzar

9 likes

ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے سمے کی شاخ سے لمحے نہیں توڑا کرتے ج سے کی آواز ہے وہ ہے وہ سلوٹ ہوں نگا ہوں ہے وہ ہے وہ شکن ایسی تصویر کے ٹکڑے نہیں جوڑا کرتے لگ کے ساحل سے جو بہتا ہے اسے بہنے دو ایسے دریا کا کبھی رکھ نہیں موڑا کرتے جاگنے پر بھی نہیں آنکھ سے گرتیں کرچیں ا سے طرح خوابوں سے آنکھیں نہیں پھوڑا کرتے شہد جینے کا ملا کرتا ہے تھوڑا تھوڑا جانے والوں کے لیے دل نہیں تھوڑا کرتے جا کے کوہسار سے سر مارو کہ آواز تو ہوں خستہ دیواروں سے ماتھا نہیں پھوڑا کرتے

Gulzar

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gulzar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gulzar's ghazal.