جن کے آنگن ہے وہ ہے وہ بیگا لگ غم کا شجر لگتا ہے ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے چاند تارے مری قدموں ہے وہ ہے وہ بچھے جاتے ہیں یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے ماں مجھے دیکھ کے ناراض لگ ہوں جائے کہی سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کب پانی گرنے سے خوشبو فوٹی ہے مٹی کو بھی علم ہے بارش جھوٹی ہے ایک رشتے کو لاپرواہی لے ڈوبی ایک رسی ڈھیلی پڑھنے لگیں پر ٹوٹی ہے ہاتھ ملانے پر بھی ا سے پہ کھلا نہیں یہ انگلی پر زخم ہے یا انگوٹھی ہے ا سے کا ہنسنا ناممکن تھا یوں سمجھو سیمنٹ کی دیوار سے کوپل فوٹی ہے ہم نے ان پر شعر نہیں لکھے حافی ہم نے ان پیڑوں کی عزت لوٹی ہے یوں لگتا ہے دین و دنیا چھوٹ گئے مجھ سے تری شہر کی ب سے کیا چھوٹی ہے
Tehzeeb Hafi
90 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Anjum Rehbar
جاناں کو بھلا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر کھا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے کل مری ایک پیاری سہیلی کتاب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک خط چھپا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ا سے سمے نواہ جاں مری سونے سہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوشبو لٹا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ایمان جانیے کہ اسے کفر جانیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر جھکا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے کل شام چھت پہ میر تقی میر کی غزل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گنگنا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے انجم تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف اک ریل جا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے
Anjum Rehbar
15 likes
ملنا تھا اتفاق اندھیرا نصیب تھا حقیقت اتنی دور ہوں گیا تو جتنا قریب تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو دیکھنے کو مشین ہی رہ گئی ج سے بے وجہ کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے گھر جل رہا تھا اور سمندر قریب تھا مریم ک ہاں تلاش کرے اپنے خون کو ہر بے وجہ کے گلے ہے وہ ہے وہ نشان صلیب تھا دفنا دیا گیا تو مجھے چان گرا کی قبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کو چاہتی تھی حقیقت لڑکا غریب تھا
Anjum Rehbar
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Anjum Rehbar.
Similar Moods
More moods that pair well with Anjum Rehbar's ghazal.







