ghazalKuch Alfaaz

جن کے آنگن ہے وہ ہے وہ بیگا لگ غم کا شجر لگتا ہے ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے چاند تارے مری قدموں ہے وہ ہے وہ بچھے جاتے ہیں یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے ماں مجھے دیکھ کے ناراض لگ ہوں جائے کہی سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے

Anjum Rehbar17 Likes

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کب پانی گرنے سے خوشبو فوٹی ہے مٹی کو بھی علم ہے بارش جھوٹی ہے ایک رشتے کو لاپرواہی لے ڈوبی ایک رسی ڈھیلی پڑھنے لگیں پر ٹوٹی ہے ہاتھ ملانے پر بھی ا سے پہ کھلا نہیں یہ انگلی پر زخم ہے یا انگوٹھی ہے ا سے کا ہنسنا ناممکن تھا یوں سمجھو سیمنٹ کی دیوار سے کوپل فوٹی ہے ہم نے ان پر شعر نہیں لکھے حافی ہم نے ان پیڑوں کی عزت لوٹی ہے یوں لگتا ہے دین و دنیا چھوٹ گئے مجھ سے تری شہر کی ب سے کیا چھوٹی ہے

Tehzeeb Hafi

90 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Anjum Rehbar

جاناں کو بھلا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر کھا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے کل مری ایک پیاری سہیلی کتاب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک خط چھپا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ا سے سمے نواہ جاں مری سونے سہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوشبو لٹا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ایمان جانیے کہ اسے کفر جانیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر جھکا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے کل شام چھت پہ میر تقی میر کی غزل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گنگنا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے انجم تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف اک ریل جا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے

Anjum Rehbar

15 likes

ملنا تھا اتفاق اندھیرا نصیب تھا حقیقت اتنی دور ہوں گیا تو جتنا قریب تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو دیکھنے کو مشین ہی رہ گئی ج سے بے وجہ کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے گھر جل رہا تھا اور سمندر قریب تھا مریم ک ہاں تلاش کرے اپنے خون کو ہر بے وجہ کے گلے ہے وہ ہے وہ نشان صلیب تھا دفنا دیا گیا تو مجھے چان گرا کی قبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کو چاہتی تھی حقیقت لڑکا غریب تھا

Anjum Rehbar

15 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Anjum Rehbar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Anjum Rehbar's ghazal.