ghazalKuch Alfaaz

ملنا تھا اتفاق اندھیرا نصیب تھا حقیقت اتنی دور ہوں گیا تو جتنا قریب تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو دیکھنے کو مشین ہی رہ گئی ج سے بے وجہ کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے گھر جل رہا تھا اور سمندر قریب تھا مریم ک ہاں تلاش کرے اپنے خون کو ہر بے وجہ کے گلے ہے وہ ہے وہ نشان صلیب تھا دفنا دیا گیا تو مجھے چان گرا کی قبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کو چاہتی تھی حقیقت لڑکا غریب تھا

Anjum Rehbar15 Likes

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

اب نئے سپنے سجانا آپ کو شا گرا مبارک رات دن ب سے مسکرانا آپ کو شا گرا مبارک یاد کروائی تھی ہے وہ ہے وہ نے جو غزل مری کبھی حقیقت ہوں سکے تو بھول جانا آپ کو شا گرا مبارک جانتا ہوں من کرےگا بات کرلیں اک دفع ب سے فون لیکن مت لگانا آپ کو شا گرا مبارک دور اب ماں باپ سے گھر سے ہمیشہ ہی رہوگے سمے پر کھا لینا خا لگ آپ کو شا گرا مبارک آپ سے یہ التجا ہے وہ ہے وہ جب کبھی ٹی وی پہ آؤں آپ چینل مت ہٹانا آپ کو شا گرا مبارک پوچھ لے کوئی سہیلی کیا ہوا ا سے عشق کا تو دوست مجھ پر ہی لگانا آپ کو شا گرا مبارک آپنے شا گرا رچائی تو مری امید ٹوٹی شکریہ کرتا دیوا لگ آپ کو شا گرا مبارک

Tanoj Dadhich

22 likes

چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا

Kushal Dauneria

54 likes

اک دن زبان سکوت کی پوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا تصویر ہے وہ ہے وہ بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور دونوں ہے وہ ہے وہ ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا مدت سمیت جملہ ضوابط ہوں طے شدہ زبان تعلقات عبوری بناؤں گا تجھ کو خبر لگ ہوں گی کہ ہے وہ ہے وہ آ سے پا سے ہوں ا سے بار حاضری کو حضوری بناؤں گا رنگوں پہ اختیار ا گر مل سکا کبھی تیری سیاہ پتلیاں بھوری بناؤں گا جاری ہے اپنی ذات پہ تحقیق آج کل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خلا پہ ایک تھیوری بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہ کر حقیقت شکل مکمل لگ کر سکا ا سے کو بھی لگ رہا تھا ادھوری بناؤں گا

Umair Najmi

20 likes

کچھ ایسے راستوں سے عشق کا سفر جائے تمہارا ہجر بہت دور سے گزر جائے اداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل جو شاعری نہ کرے تو دکھوں سے مر جائے پچا سے لوگوں سے حقیقت روز ملتی ہے اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو دیکھ لوں تو ا سے کا منہ اتر جائے گھٹا چھٹے تو دیکھے چاند بھی ستارے تم بھی جو جاناں ہٹو تو کسی اور پر نظر جائے ہزار سال ہے وہ ہے وہ تیار ہونے والا مرد ا سے ایک گود ہے وہ ہے وہ سر رکھتے ہی بکھر جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے بدن سے سبھی پیرہن اتارتا اور اندھیرا جسم پہ کپڑے کا کام کر جائے میری ہوں سے کو کوئی دوسرا میسر ہوں تمہارا حسن کسی اور سے سنور جائے

Kushal Dauneria

21 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Anjum Rehbar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Anjum Rehbar's ghazal.