ghazalKuch Alfaaz

ذکر میرا بب گرا بھی اسے جھمکے نہیں غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں وعدہ سیر گلستاں ہے خوشا طالع شوق مژدہ قتل مقدر ہے جو مذکور نہیں شاہد ہستی مطلق کی کمر تراش ہے عالم لوگ کہتے ہیں کہ ہے پر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جھمکے نہیں اللہ ری اپنا بھی حقیقت ہے وہ ہے وہ ہے دریا لیکن ہم کو تقلید تنک ظرفی منصور نہیں حسرت اے ذوق خرابی کہ حقیقت طاقت لگ رہی عشق پر عربدہ کی گوں زیر مزار تن رنجور نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو کہتا ہوں کہ ہم لیںگے خوشگوار ہے وہ ہے وہ تمہیں ک سے رعونت سے حقیقت کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں ظلم کر ظلم ا گر لطف دریغ آتا ہوں تو ت غافل ہے وہ ہے وہ کسی رنگ سے معذور نہیں صاف در گرا کش پیما لگ جم ہیں ہم لوگ وائے حقیقت بادہ کہ افشردہ انگور نہیں ہوں ظہوری کے مقابل ہے وہ ہے وہ خفائی تاکتے مری دعوی پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں

Related Ghazal

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Mirza Ghalib

رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی

Mirza Ghalib

0 likes

حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز

Mirza Ghalib

0 likes

दिल मिरा सोज़-ए-निहाँ से बे-मुहाबा जल गया आतिश-ए-ख़ामोश की मानिंद गोया जल गया दिल में ज़ौक़-ए-वस्ल ओ याद-ए-यार तक बाक़ी नहीं आग इस घर में लगी ऐसी कि जो था जल गया मैं अदम से भी परे हूँ वर्ना ग़ाफ़िल बार-हा मेरी आह-ए-आतिशीं से बाल-ए-अन्क़ा जल गया अर्ज़ कीजे जौहर-ए-अंदेशा की गर्मी कहाँ कुछ ख़याल आया था वहशत का कि सहरा जल गया दिल नहीं तुझ को दिखाता वर्ना दाग़ों की बहार इस चराग़ाँ का करूँँ क्या कार-फ़रमा जल गया मैं हूँ और अफ़्सुर्दगी की आरज़ू 'ग़ालिब' कि दिल देख कर तर्ज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया ख़ानमान-ए-आशिक़ाँ दुकान-ए-आतिश-बाज़ है शो'ला-रू जब हो गए गर्म-ए-तमाशा जल गया ता कुजा अफ़सोस-ए-गरमी-हा-ए-सोहबत ऐ ख़याल दिल बा-सोज़-ए-आतिश-ए-दाग़-ए-तमन्ना जल गया है 'असद' बेगाना-ए-अफ़्सुर्दगी ऐ बेकसी दिल ज़-अंदाज़-ए-तपाक-ए-अहल-ए-दुनिया जल गया दूद मेरा सुंबुलिस्ताँ से करे है हम-सरी बस-कि शौक़-ए-आतिश-गुल से सरापा जल गया शम्अ-रूयाँ की सर-अंगुश्त-ए-हिनाई देख कर ग़ुंचा-ए-गुल पर-फ़िशाँ परवाना-आसा जल गया

Mirza Ghalib

0 likes

رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے ا سے سال کے حساب کو برق آفتاب ہے مینا مے ہے سرو نشاط بہار سے بال تدررو جلوہ موج شراب ہے اڑھائی ہوا ہے پاشنا پا ثبات کا نے بھاگنے کی گوں زیر مزار لگ اقامت کی تاب ہے جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہت غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے نہظارہ کیا حریف ہوں ا سے برق حسن کا جوش بہار رکے کو ج سے کے نقاب ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نامراد دل کی تسلی کو کیا کروں مانا کہ تری رکھ سے نگہ کامیاب ہے گزرا سرسری مسرت پیغام یار سے شکایت پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض جو دا لگ دام ہے وہ ہے وہ ہے سو خوشی کباب ہے ب چشم دل لگ کر ہوں سے سیر لالہ زار زبان یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے

Mirza Ghalib

1 likes

کہتے ہوں لگ دیں گے ہم دل ا گر پڑا پایا دل ک ہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے آب و زیست کا مزہ پایا درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم آہ نبھے گی دیکھی نالہ نارساء پایا سادگی و پرکاری بے خو گرا و ہوشیاری حسن کو ت غافل ہے وہ ہے وہ جرأت آزما پایا غنچہ پھروں لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم لیکن ا سے دودمان زبان ہم نے بارہا ڈھونڈا جاناں نے بارہا پایا شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے جاناں نے کیا مزہ پایا ہے ک ہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشت امکان کو ایک نقش پا پایا بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کہ ایک بےکسی تجھ کو عالم آشنا پایا خاک بازی امید کارخا لگ طفلی یا سے کو دو عالم سے لب خندہ وا پایا کیوں لگ وحشت غالب باج خواہ تسکین ہوں کشتہ ت غافل کو خصم خون بہا پایا فکر نالہ ہے وہ ہے وہ گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب ہے وہ ہ

Mirza Ghalib

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mirza Ghalib.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.