رفتار عمر قطع رہ اضطراب ہے ا سے سال کے حساب کو برق آفتاب ہے مینا مے ہے سرو نشاط بہار سے بال تدررو جلوہ موج شراب ہے اڑھائی ہوا ہے پاشنا پا ثبات کا نے بھاگنے کی گوں زیر مزار لگ اقامت کی تاب ہے جاداد بادہ نوشی رنداں ہے شش جہت غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے نہظارہ کیا حریف ہوں ا سے برق حسن کا جوش بہار رکے کو ج سے کے نقاب ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نامراد دل کی تسلی کو کیا کروں مانا کہ تری رکھ سے نگہ کامیاب ہے گزرا سرسری مسرت پیغام یار سے شکایت پہ مجھ کو رشک سوال و جواب ہے ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض جو دا لگ دام ہے وہ ہے وہ ہے سو خوشی کباب ہے ب چشم دل لگ کر ہوں سے سیر لالہ زار زبان یہ ہر ورق ورق انتخاب ہے
Related Ghazal
کسے خبر ہے کہ عمر ب سے ا سے پہ غور کرنے ہے وہ ہے وہ کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے ک سے خوشی ہے وہ ہے وہ لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم ا سے کے ہوکر بھی ا سے کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں ہے وہ ہے وہ بٹ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہر روز ب سے یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا سنو ی ہاں کوئی م سے’ألا ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو یہ بیل شاید کسی مصیبت ہے وہ ہے وہ ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے یہ سمے آنے پہ اپنی اولاد اپنے اضداد بیچ دےگی جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے سو ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ جو غلط فہ میاں تھیں اب دور ہوں رہی ہیں رکی ہوئی گاڑیاں کے چلنے کا سمے ہے دھند چھٹ رہی ہے
Tehzeeb Hafi
88 likes
ک ہاں آ کے رکنے تھے راستے ک ہاں موڑ تھا اسے بھول جا حقیقت جو مل گیا تو اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا حقیقت تری نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ بر سے گئیں دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو گم تھا تری ہی دھیان ہے وہ ہے وہ تری آ سے تری گمان ہے وہ ہے وہ ہے وہ صبا کہ گئی مری کان ہے وہ ہے وہ مری ساتھ آ اسے بھول جا کسی آنکھ ہے وہ ہے وہ نہیں خوشی غم تری بعد کچھ بھی نہیں ہے کم تجھے زندگی نے بھلا دیا تو بھی مسکرا اسے بھول جا کہی چاک جاں کا رفو نہیں کسی آستین پہ لہو نہیں کہ شہید راہ ملال کا نہیں خوں بہا اسے بھول جا کیوں اٹا ہوا ہے غمدیدہ ہے وہ ہے وہ غم زندگی کے فشار ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت جو درد تھا تری بخت ہے وہ ہے وہ سو حقیقت ہوں گیا تو اسے بھول جا تجھے چاند بن کے ملا تھا جو تری ساحلوں پہ کھلا تھا جو حقیقت تھا ایک دریا وصال کا سو اتر گیا تو اسے بھول جا
Amjad Islam Amjad
14 likes
کوئی مثال نہیں ہے تری مثال کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے خیال ہوا ہوں تری خیال کے بعد ب سے اک ملال پہ تو زندگی تمام لگ کر بڑے ملال ملیںگے مری ملال کے بعد ہر ایک زخم کو اشکوں سے دھو کے چوم لیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسے ٹھیک ہوا ا سے کی دیکھ بھال کے بعد الجھ کے رہ گیا تو حقیقت جال ہے وہ ہے وہ طبیبوں کے مریض گھر نہیں لوٹا ہے اسپتال کے بعد دعا سلام بخیر سے آگے ہے وہ ہے وہ بڑھ نہیں پاتا اسے بھی سوچنا پڑتا ہے حال چال کے بعد ہمارے بیچ ہے وہ ہے وہ جو ہے صحیح نہیں ہے حقیقت اسے یہ یاد بھی آیا تو چار سال کے بعد ہزاروں خواب جو آنکھوں کے آسرے تھے کبھی یتیم ہوں گئے آنکھوں کے انتقال کے بعد
Varun Anand
22 likes
سرکتی جائے ہے رکھ سے نقاب آہستہ آہستہ نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ جواں ہونے لگے جب حقیقت تو ہم سے کر لیا پردہ حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو کبھی فرصت ہے وہ ہے وہ کر لینا حساب آہستہ آہستہ سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ حقیقت بےدر گرا سے سر کاٹیں امیر اور ہے وہ ہے وہ ک ہوں ان سے حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
Ameer Minai
10 likes
نبی کی دی ہوئی تھی جو رسالت بھول بیٹھے ہوں نبی کے چاہنے والوں شجاعت بھول بیٹھے ہوں محمد سے محبت کا تو دعویٰ خوب کرتے ہوں مگر صدیق اکبر کی اپناپن بھول بیٹھے ہوں تمہیں عثمان ہونا تھا عمر فاروق ہونا تھا سیاست کرنے والوں جاناں کاتبوں بھول بیٹھے ہوں کسی تپتے ہوئے صحرا ہے وہ ہے وہ تھے پیاسے بہتر حقیقت علی زہرا کے بچوں کی شہادت بھول بیٹھے ہوں عرب والو تمہیں دی تھی نگہبانی جو کعبہ کی نبی کے خطبے کی جاناں ہی وصیت بھول بیٹھے ہوں سجا کے سر پہ جاناں ٹوپی بنے ہوں دین کے رہبر مگر جاناں دین کی اپنے شریعت بھول بیٹھے ہوں بدر کے تین سو تیرہ کا لشکر یاد ہے جاناں کو یا اب جنگ جدل کی جاناں ہذاقت بھول بیٹھے ہوں بٹے ہوں جاناں جو فرقو ہے وہ ہے وہ ذرا قرآن کو تھامو روایت ماننے والوں حقیقت بھول بیٹھے ہوں
ALI ZUHRI
8 likes
More from Mirza Ghalib
غم نہیں ہوتا ہے نحیف و زار کو بیش از یک نہفس فکر آشیاں سے کرتے ہیں روشن شم ماتم خانہ ہم محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال ہیں ورق گردانی نہیرنگ یک بت خانہ ہم باوجود یک جہاں ہنگامہ پیدائی نہیں ہیں چراغان شبستان دل پروانہ ہم زوف سے ہے نے قناعت سے یہ ترک جستجو ہیں وبال تکیہ گاہ ہمت مردانہ ہم دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمناہیں سرسری جانتے ہیں سینہ پر خوں کو زندان خانہ ہم بس کہ ہیں بد مست بشکن بشکن مے خانہ ہم دیدہ ساغر کو سمجھتے ہیں خط پیمانہ ہم بس کہ ہر یک مو زلف افشاں سے ہے تار شعاع شانہ صفت کو سمجھے ہیں دست شانہ ہم مشک از خود رفتگی سے ہیں بگلزار خیال آشنا تعبیر خواب سبزہ بیگانہ ہم فرت بے خوابی سے ہیں شب ہا ہجر یار میں جوں زبان شمع داغ گرمی افسانہ ہم شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے پر فشاں سوختن ہیں صورت پروانہ ہم حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے دو جہاں حشر زبان خشک ہیں جوں شانہ ہم کشتی عالم بطوفان تغافل دے کہ ہیں عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم وحشت بے ربطی پیچ و خم ہستی
Mirza Ghalib
0 likes
رون گرا ہوئی ہے کوکب شہریار کی اتراے کیوں لگ خاک سر رہ گزاری کی جب ا سے کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہ لوگوں ہے وہ ہے وہ کیوں نمود لگ ہوں لالہ زار کی بھوکے نہیں ہیں سیر گلستاں کے ہم ولے کیونکر لگ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
Mirza Ghalib
0 likes
کہتے ہوں لگ دیں گے ہم دل ا گر پڑا پایا دل ک ہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے آب و زیست کا مزہ پایا درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا دوست دار دشمن ہے اعتماد دل معلوم آہ نبھے گی دیکھی نالہ نارساء پایا سادگی و پرکاری بے خو گرا و ہوشیاری حسن کو ت غافل ہے وہ ہے وہ جرأت آزما پایا غنچہ پھروں لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم لیکن ا سے دودمان زبان ہم نے بارہا ڈھونڈا جاناں نے بارہا پایا شور پند ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے جاناں نے کیا مزہ پایا ہے ک ہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشت امکان کو ایک نقش پا پایا بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کہ ایک بےکسی تجھ کو عالم آشنا پایا خاک بازی امید کارخا لگ طفلی یا سے کو دو عالم سے لب خندہ وا پایا کیوں لگ وحشت غالب باج خواہ تسکین ہوں کشتہ ت غافل کو خصم خون بہا پایا فکر نالہ ہے وہ ہے وہ گویا حلقہ ہوں ز سر تا پا عضو عضو جوں زنجیر یک دل صدا پایا شب نظارہ پرور تھا خواب ہے وہ ہ
Mirza Ghalib
1 likes
حریف زار مشکل نہیں فسوں نیاز دعا قبول ہوں یا رب کہ خیرو دراز لگ ہوں بہرزا بیابان نورد وہم وجود ہنوز تری تصور ہے وہ ہے وہ ہے نشیب و فراز وصال جلوہ تماشا ہے پر دماغ ک ہاں کہ دیجئے آئی لگ انتظار کو پرداز ہر ایک ذرہ عاشق ہے آفتاب پرست گئی لگ خاک ہوئے پر ہوا جلوہ ناز لگ پوچھ وسعت مے خا لگ جنوں تاکتے ج ہاں یہ کاسہ گردوں ہے ایک خاک انداز فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ نگاہ عک سے فروش و خیال آئی لگ ساز زی ب سے کہ جلوہ صیاد حیرت آرا ہے اڑی ہے صفحہ خاطر سے صورت پرواز ہجوم فکر سے دل مثل موج لرزے ہے کہ شیشہ چھوؤں گا و صہبا آبگین گداز سرسری سے ترک وفا کا گماں حقیقت معنی ہے کہ کھینچیے پر طائر سے صورت پرواز ہنوز اے اثر دید ننگ رسوائی نگاہ فت لگ خرام و در دو عالم باز
Mirza Ghalib
0 likes
جاناں اپنے شکوے کی باتیں لگ خود خود کے پوچھو حذر کروں مری دل سے کہ ا سے ہے وہ ہے وہ آگ دبی ہے دلا یہ درد و الم بھی تو حقیقت دل ہے کہ آخر لگ گریہ سحری ہے لگ آہ نیم شبی ہے نظر ب نقص گدایاں غصہ بے ادبی ہے کہ خار خشک کو بھی دعا چمن نسبی ہے ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ لب قدح پہ کف بادہ جوش تش لگ لبی ہے خوشا حقیقت دل کہ سرپا طلسم بے خبری ہوں جنون و یا سے و الم رزق مدعا طلبی ہے چمن ہے وہ ہے وہ ک سے کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا کہ برگ برگ سمن شیشہ ریزا حلبی ہے امام ظاہر و باطن امیر صورت و معنی علی بادہ خوار اسداللہ جانشین نبی ہے
Mirza Ghalib
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mirza Ghalib.
Similar Moods
More moods that pair well with Mirza Ghalib's ghazal.







