ghazalKuch Alfaaz

کوئی مثال نہیں ہے تری مثال کے بعد ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے خیال ہوا ہوں تری خیال کے بعد ب سے اک ملال پہ تو زندگی تمام لگ کر بڑے ملال ملیںگے مری ملال کے بعد ہر ایک زخم کو اشکوں سے دھو کے چوم لیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسے ٹھیک ہوا ا سے کی دیکھ بھال کے بعد الجھ کے رہ گیا تو حقیقت جال ہے وہ ہے وہ طبیبوں کے مریض گھر نہیں لوٹا ہے اسپتال کے بعد دعا سلام بخیر سے آگے ہے وہ ہے وہ بڑھ نہیں پاتا اسے بھی سوچنا پڑتا ہے حال چال کے بعد ہمارے بیچ ہے وہ ہے وہ جو ہے صحیح نہیں ہے حقیقت اسے یہ یاد بھی آیا تو چار سال کے بعد ہزاروں خواب جو آنکھوں کے آسرے تھے کبھی یتیم ہوں گئے آنکھوں کے انتقال کے بعد

Varun Anand22 Likes

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

More from Varun Anand

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

11 likes

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

21 likes

وفا خلوص مدد دیکھ بھال بھول گئے اب ایسے لفظوں کا سب استعمال بھول گئے منانا روٹھنا ہجر و وصال بھول گئے سبھی محبتوں کا استعمال بھول گئے نظر کے سامنے حقیقت با غصہ کیا آیا ہم اپنے حصے کے سارے غصہ بھول گئے قف سے ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو جی آخرش پرندوں کا ج ہاں سے آئی تھے حقیقت ڈال وال بھول گئے فتور پھروں سے چڑھا ہے نئی محبت کا جناب پچھلی محبت کا حال بھول گئے پھروں ا سے نے سوچ سمجھ کر اک ایسی چال چلی کہ ج سے کو دیکھ کے سب اپنی چال بھول گئے دیے جلانے تھے پر دل جلا دیے ہم نے ہم اپنے فن کا صحیح استعمال بھول گئے

Varun Anand

9 likes

کاش کہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا پتھر گر تھا ان کو پیارا پتھر لوگوں کی تو بات کریں کیا تیرا دل بھی نکلا پتھر ہم دونوں ہے وہ ہے وہ بنتی کیسے ایک تھا شیشہ دوجا پتھر شیشہ تو کمزور بڑا تھا پھروں بھی کیسے ٹوٹا پتھر سب کے حصے ہیرے اندھیرا مری حصے آیا پتھر پار سے تھا حقیقت جاناں نے جانا سب نے ج سے کو سمجھا پتھر کل تک پھول تھے جن ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہاتھوں ہے وہ ہے وہ آج تھا پتھر

Varun Anand

21 likes

خود اپنے خون ہے وہ ہے وہ پہلے نہایا جاتا ہے نظیر و خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہے کبھی کبھی جو پرندے بھی لگ سنا کر دیں تو حال دل کا شجر کو سنایا جاتا ہے ہماری پیا سے کو زنجیر باندھی جاتی ہے تمہارے واسطے دریا بہایا جاتا ہے نوازتا ہے حقیقت جب بھی عزیزوں کو اپنے تو سب سے بعد ہے وہ ہے وہ ہم کو بلایا جاتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تلاش کے دیتے ہیں راستہ سب کو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بعد ہے وہ ہے وہ راستہ دکھایا جاتا ہے

Varun Anand

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Varun Anand.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.