ghazalKuch Alfaaz

کاش کہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا پتھر گر تھا ان کو پیارا پتھر لوگوں کی تو بات کریں کیا تیرا دل بھی نکلا پتھر ہم دونوں ہے وہ ہے وہ بنتی کیسے ایک تھا شیشہ دوجا پتھر شیشہ تو کمزور بڑا تھا پھروں بھی کیسے ٹوٹا پتھر سب کے حصے ہیرے اندھیرا مری حصے آیا پتھر پار سے تھا حقیقت جاناں نے جانا سب نے ج سے کو سمجھا پتھر کل تک پھول تھے جن ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہاتھوں ہے وہ ہے وہ آج تھا پتھر

Varun Anand21 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے

Jaun Elia

88 likes

More from Varun Anand

مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مری زخم طلبگار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی ہے وہ ہے وہ اچانک اور گھل گئے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس کا کا پار تھے میٹھے کے تو اس کا پار نمک کے اس کا کا نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھروں اس کا نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک کے کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے

Varun Anand

9 likes

خود اپنے خون ہے وہ ہے وہ پہلے نہایا جاتا ہے نظیر و خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہے کبھی کبھی جو پرندے بھی لگ سنا کر دیں تو حال دل کا شجر کو سنایا جاتا ہے ہماری پیا سے کو زنجیر باندھی جاتی ہے تمہارے واسطے دریا بہایا جاتا ہے نوازتا ہے حقیقت جب بھی عزیزوں کو اپنے تو سب سے بعد ہے وہ ہے وہ ہم کو بلایا جاتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تلاش کے دیتے ہیں راستہ سب کو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بعد ہے وہ ہے وہ راستہ دکھایا جاتا ہے

Varun Anand

9 likes

تری چہرے کی رونق کھا رہا ہے یہ کس کا غم تجھے تڑپا رہا ہے ہمارا دل پامال تو پورا رہا تھا ہمارا پھل م گر فیکا رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کا ساتواں ہوں عشق تو کیا حقیقت میرا کون سا پہلا رہا ہے ترا دکھ ہے تو کیا ہیں روز کے دکھ نئے پودوں کو برگد کھا رہا ہے چیزیں ہے وہ ہے وہ مزہ بھی تھا سزا بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب خوش ہوں تو حقیقت پچھتا رہا ہے ہمارے در میاں الفت نہیں ہے ہمارے بیچ سمجھوتا رہا ہے عجائب گھر ہے وہ ہے وہ رکھی جائیں گی سب حقیقت ج سے ج سے چیز کو چھوتا رہا ہے کھڑی ہے شام پھروں باہیں پسارے کوئی بھولا سحر کا آ رہا ہے

Varun Anand

17 likes

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

11 likes

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

21 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Varun Anand.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.