ghazalKuch Alfaaz

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand11 Likes

Related Ghazal

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے

Tehzeeb Hafi

220 likes

ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے

Yasir Khan

92 likes

ی ہاں جاناں دیکھنا رتبہ ہمارا ہماری ریت ہے دریا ہمارا کسی سے کل پتا جی کہ رہے تھے محبت کھا گئی لڑکا ہمارا تعلق ختم کرنے جا رہی ہے کہی گروہ لگ دے بچہ ہمارا

Kushal Dauneria

67 likes

More from Varun Anand

یہ شوخیاں یہ جوانی ک ہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی ک ہاں سے لائیں ہم محبتیں حقیقت پرانی ک ہاں سے لائیں ہم رکی ن گرا ہے وہ ہے وہ روانی ک ہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوسٹ ایک صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ایسی آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی ک ہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہوں جاناں ہر ایک لفظ کا معنی ک ہاں سے لائیں ہم چلو بتا دیں زمانے کو اپنے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ روز جھوٹی کہانی ک ہاں سے لائیں ہم

Varun Anand

13 likes

خود اپنے خون ہے وہ ہے وہ پہلے نہایا جاتا ہے نظیر و خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہے کبھی کبھی جو پرندے بھی لگ سنا کر دیں تو حال دل کا شجر کو سنایا جاتا ہے ہماری پیا سے کو زنجیر باندھی جاتی ہے تمہارے واسطے دریا بہایا جاتا ہے نوازتا ہے حقیقت جب بھی عزیزوں کو اپنے تو سب سے بعد ہے وہ ہے وہ ہم کو بلایا جاتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تلاش کے دیتے ہیں راستہ سب کو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بعد ہے وہ ہے وہ راستہ دکھایا جاتا ہے

Varun Anand

9 likes

مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مری زخم طلبگار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی ہے وہ ہے وہ اچانک اور گھل گئے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس کا کا پار تھے میٹھے کے تو اس کا پار نمک کے اس کا کا نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھروں اس کا نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک کے کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے

Varun Anand

9 likes

اسی لیے تو مسافر تو سوگوار نہیں کہ تو نے بندھو دیکھے ہیں پر غبار نہیں نہیں یہ بات نہیں ہے کہ تجھ سے پیار نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کروں کہ مجھے خود کا اعتبار نہیں لگا ہوں ہاتھ جو تری تو اب سنبھال مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بار ہی ملتا ہوں بار بار نہیں مجھے کریدنے والو ہے وہ ہے وہ ایک صحرا ہوں کہ مجھ سے ریت ہی نکلےگی آبشار نہیں غموں سے رشتہ بنا دوستی نبھا ان سے دکھوں کو پال مری جان ان کو مار نہیں مری قبول پہ ا سے نے قبول کہ تو دیا پر ایک بار کہا ا سے نے تین بار نہیں ج ہاں تو بچھڑا و ہاں گیت بج رہا تھا یہی مری نصیب ہے وہ ہے وہ اے دوست تیرا پیار نہیں

Varun Anand

20 likes

بھلے لگ جلد ہوں تاخیر سے محبت ہوں م گر جو ہوں تو کسی ہیر سے محبت ہوں پھروں ا سے کے پاؤں کو بھاتے نہیں ہیں گھنگرو بھی حقیقت ج سے کے پاؤں کو زنجیر سے محبت ہوں کسی کمان کی نظریں ہوں مری سینے پر مری بھی دل کو کسی تیر سے محبت ہوں حقیقت رقص کرتے ہوئے مقتلوں کو بڑھتے ہیں کہ جن کو یار کی شمشیر سے محبت ہوں خدا کرے کے تجھے عیب شاعری کا لگے تجھے بھی میر تقی میر سے محبت ہوں حقیقت آنکھ سونے کی دیوار دیکھتی ہی نہیں کہ ج سے کو آپ کی تصویر سے محبت ہوں

Varun Anand

16 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Varun Anand.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.